پہلی مرتبہ الیکٹرک پرواز کا کامیاب تجربہ، کرایہ بھی انتہائی کم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
بیٹا ٹیکنالوجیز کے تیار کردہ برقی طیارے آلیا سی ایکس300 نے مکمل طور پر بجلی کی طاقت سے مسافروں کو لے کر کامیاب پرواز مکمل کرتے ہوئے ہوا بازی کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے، یہ اپنی نوعیت کی پہلی پرواز ہے جس میں 4 مسافروں کے ہمراہ یہ طیارہ امریکی شہر ایسٹ ہیمپٹن سے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ تک پرواز کرتا ہوا پہنچا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ پرواز میں تقریباً 70 ناٹیکل میل یعنی 130 کلومیٹر فاصلہ صرف35 منٹ میں طے کیا گیا، اس برقی پرواز پر لاگت صرف 8 ڈالر آئی، جب کہ اسی روٹ پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر کرنے پر 160 ڈالر خرچ آتا ہے۔
مزید برآں، چونکہ اس طیارے میں روایتی شور والے انجن یا پروپیلر موجود نہیں، اس لیے دورانِ پرواز مسافر آرام سے گفتگو کر سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:
بیٹا ٹیکنالوجیز کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کائل کلارک کے مطابق، یہ ایک 100 فیصد برقی طیارہ ہے جس نے ایسٹ ہیمپٹن سے جے ایف کے ایئرپورٹ تک مسافروں کے ساتھ کامیاب پرواز کی۔ ’یہ نیویارک پورٹ اتھارٹی اور نیویارک کے علاقے کے لیے ایک تاریخی لمحہ تھا، ہم نے 70 ناٹیکل میل کا فاصلہ صرف 35 منٹ میں طے کیا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ اس طیارے کو چارج کرنے اور پرواز پر صرف 8 ڈالر خرچ ہوئے۔ اگرچہ پائلٹ اور طیارے کے اخراجات شامل ہوتے ہیں لیکن بنیادی طور پر یہ روایتی سفر کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستا ہے۔
کمپنی کے مطابق، سی ایکس 300 ماڈل میں فراہم کردہ سکون اور آسانی برقی فضائی سفر کو عام شہریوں اور مسافروں کے لیے پُرکشش بنا سکتی ہے۔
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی منظوری کا انتظارورمونٹ میں قائم بیٹا ٹیکنالوجیز 2017 میں قائم کی گئی تھی اور حال ہی میں اس نے 318 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے، جس کا مقصد اس برقی طیارے کی تیاری، تصدیق اور تجارتی پیمانے پر لانچنگ کو تیز کرنا ہے۔
کمپنی پچھلے 6 سال سے 2 ماڈلز پر کام کر رہی ہے، جس میں روایتی ٹیک آف اور لینڈنگ کا حامل سی ایکس 300 اور آلیا 250 ای وی ٹی او ایل شامل ہیں۔
بیٹا ٹیکنالوجیز کا ہدف ہے کہ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن یعنی ایف اے اے کی منظوری رواں برس کے اختتام تک حاصل کر لی جائے۔ یہ طیارے ایک بار مکمل چارج ہونے پر 250 ناٹیکل میل تک پرواز کر سکتے ہیں، جو شہری اور مضافاتی علاقوں کے درمیان مختصر فضائی سفر کے لیے مثالی سمجھے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:
قابل ذکر بات یہ ہے کہ بیٹا ٹیکنالوجیز اکیلی کمپنی نہیں جو فضائی ٹیکسی انڈسٹری میں انقلاب لانے کے لیے سرگرم ہے۔ گزشتہ ماہ لاس اینجلس اولمپکس 2028 کی منصوبہ بندی کمیٹی نے آرچر ایوی ایشن کو سرکاری فضائی ٹیکسی فراہم کنندہ مقرر کیا ہے۔
توقع ہے کہ تماشائی لاس اینجلس کی ٹریفک سے بچتے ہوئے شاندار انداز میں سفر کر سکیں گے، اگرچہ آرچر ایوی ایشن کو بھی ابھی ایف اے اے کی تصدیق درکار ہے، لیکن کمپنی کا منصوبہ ہے کہ 2026 سے لاس اینجلس میں اپنی فضائی ٹیکسی سروس کا آغاز کردے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف اے اے برقی طیارے بیٹا ٹیکنالوجیز فضائی ٹیکسی انڈسٹری فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن لاس اینجلس اولمپکس ناٹیکل میل ہوا بازی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف اے اے برقی طیارے بیٹا ٹیکنالوجیز فضائی ٹیکسی انڈسٹری لاس اینجلس اولمپکس ہوا بازی بیٹا ٹیکنالوجیز فضائی ٹیکسی لاس اینجلس ایوی ایشن کے لیے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز