صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا سردار فتح محمد خان بزدار انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
ڈیرہ غازی خان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 جون2025ء) صوبائی وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے سردار فتح محمد خان بزدار انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا۔ پیر کو دورہ کے موقع پر انہوں نے او پی ڈی، ایمرجنسی، میڈیسن سٹور، فارمیسی، آپریشن تھیٹرز اور دیگر وارڈز کا تفصیلی جائزہ لیا اور فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا معائنہ کیا۔
اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر رمضان سومرو بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔وزیر صحت نے مریضوں کی عیادت کی اور ان سے علاج و معالجے کی سہولیات بارے دریافت کیا۔(جاری ہے)
انہوں نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بورڈ کو ہدایت کی کہ یہاں کیو مینجمنٹ سسٹم کو جلد از جلد فعال کیا جائے تاکہ مریضوں کو بہتر سہولت میسر ہو۔خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق عوام کو صحت کی معیاری سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے موجودہ بجٹ میں صحت کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی ہے اور مریضوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔
وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔
مزید :