لودھراں: 11 سال سے مفرور تہرے قتل کا اشتہاری ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
لودھراں میں سی سی ڈی کی کارروائی کے دوران 11 سال سے مفرور تہرے قتل کے اشتہاری ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزم سی سی ڈی کی اشتہاری مجرمان کی ٹاپ لسٹ میں شامل تھا، ملزم نے 2014ء میں دیرینہ دشمنی کی وجہ سے دو افراد کو فائرنگ کر کے قتل کیا تھا جبکہ 2023ء میں بھی ایک شخص کو قتل کیا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں کراچی میں کیماڑی پولیس نے خاتون کو قتل کر کے لاش سمندر میں پھینکے والے مفرور ملزم کو 3 سال بعد گرفتار کیا تھا۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن کیماڑی اظہر جاوید کے مطابق سال 2022ء میں خاتون نصیب زرینہ گھر سے سودا لینے نکلی تھی کہ لاپتہ ہوگئی، خاتون کی لاش دوسرے روز بابا بھٹ جزیرہ کے پاس سمندر سے ملی تھی، خاتون کے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔