---فائل فوٹو 

کراچی کے علاقے سعودآباد میں رینجرز اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دو مطلوب ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ملزمان کا تعلق ایم اکیو ایم (لندن) سے ہے۔

رینجرز سندھ کے اعلامیے کے مطابق سعودآباد اور ایئر پورٹ کے قریب سے دو انتہائی مطلوب ملزمان محمد شہاب خان عرف کارا اور منصور عالم عرف چرکٹ کو گرفتار کیا گیا ہے جن کا تعلق ایم اکیو ایم (لندن) سے ہے۔ گرفتار ملزمان منشیات فروشی، ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔ 

اعلامیے کے مطابق ملزمان سے ایک عدد آٹو رکشہ، دو عدد موبائل فون اور نقدی برآمد ہوئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان عادی جرائم پیشہ ہیں اور متعدد بار پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے ہیں۔ ملزم منصور عالم نے کراچی آپریشن کے دوران گرفتاری سے بچنے کے لیے رکشہ چلانا شروع کردیا تھا، رکشے پر گٹکا/ماوا اور منشیات کی ترسیل کرتا رہا ہے۔

اعلامیے کے مطابق ملزم محمد شہاب خان نے اعتراف کیا ہے وہ ایک نجی فیکٹری میں نوکری کرتا ہے اور ڈیوٹی کے بعد اسٹر یٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے، ملزم متعدد بار گرفتار ہو کر جیل بھی جا چکا ہے۔ 

ملزمان نے اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی وارداتوں میں 4 لاکھ روپے، 40 سے 50 موبائل فونز اسلحے کے زور پر لوٹنے کا انکشاف بھی کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار