تہران(نیوز ڈیسک)ایران نے اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے جواب میں ایک اور شدید میزائل حملہ کرتے ہوئے جنوبی اسرائیل کے اہم پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے اور شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

الجزیرہ اور اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل الیکٹرک کارپوریشن نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کے قریب گرا، جس کے بعد بجلی کی ترسیل میں خلل آیا۔ حملے کے بعد نہاریا، حیفا، میعیلیا اور دیگر شمالی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے، جس پر شہریوں نے طویل وقت پناہ گاہوں میں گزارا۔
رائٹرز کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے آسمان پر میزائلوں کو پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا اور اس کے فوراً بعد دھماکوں کی شدید آوازیں سنی گئیں۔ اب تک کم از کم 4 مختلف مقامات پر میزائل گرنے کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں اشدود اور مغربی بیت المقدس شامل ہیں۔

اسرائیلی حکام کی جانب سے فوجی سنسر شپ نافذ کردی گئی ہے، جس کے تحت متاثرہ تنصیبات یا علاقوں کی تفصیل بتانا یا متعلقہ ویڈیوز اور معلومات شیئر کرنا سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی فضائیہ نے ایرانی دارالحکومت تہران اور اس کے نواحی علاقے ’کرج‘ پر آج دوپہر کے قریب بڑے پیمانے پر شدید حملے کیے ہیں۔ دارالحکومت میں کئی مقامات پر دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ ان حملوں کے دوران ایرانی ریاستی ٹی وی کی لائیو نشریات چند منٹ کے لیے منقطع ہو گئیں۔ اس کے علاوہ ایک تکنیکی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا جو کئی چینلز کی براہِ راست نشریات کو سپورٹ کرتی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی یہ کارروائی اسرائیلی جارحیت کا براہِ راست اور اسٹریٹجک ردعمل ہے۔

واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیلی حملے کے بعد سے ایران اب تک قریباً 450 بیلسٹک میزائل اسرائیل پر داغ چکا ہے، جن میں کئی اہم فوجی و انفرااسٹرکچر اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

صورتحال کے پیش نظر اسرائیل بھر میں ہائی الرٹ ہے، جب کہ عالمی برادری نے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں ایک دن میں 26 ہزارسے زیادہ ڈرائیونگ لائسنس جاری

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اور اس

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا