کراچی:

پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن نے بجٹ میں ودہولڈنگ ٹیکس میں بلاجواز اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

ایڈورٹائزرز ایسوسی ایشن کے وفد نے پیر کو ایف پی سی سی آئی میں منعقدہ ٹیکس بے قاعدگیوں پر بعد از بجٹ مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔ فورم میں پی اے اے نے ایڈورٹائزنگ سمیت، مخصوص خدمات پر ودہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) کو 4 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کرنے پر انڈسٹری کے مشترکہ خدشات کا اظہار کیا اور اسے ایک معاشی طور پر سزا دینے والا اور ناقابلِ برداشت اقدام قرار دیا۔

وفد نے ایک تفصیلی مؤقف پیش کیا جس میں اس اضافے کے سنگین اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ اگر اسے اوسط خالص منافع کے تناظر میں، جو محض 15 فیصد ہے، دیکھا جائے تو یہ اضافہ عملی طور پر 17 فیصد سپر ٹیکس کے مترادف ہے۔

احمد کپاڈیا نے کہا کہ ایک ایسا ماحول جہاں پہلے ہی افرادی قوت کے بڑھتے ہوئے اخراجات، یوٹیلیٹی بلوں میں بے تحاشہ اضافہ اور کلائنٹس کی جانب سے بجٹ میں کمی نے صنعت پر دباؤ ڈال رکھا ہے، ٹیکس کا یہ اضافی بوجھ، سروس فراہم کرنے والے اداروں کی بقاء کے لیے، خطرہ بن چکا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس اضافے کو واپس لے اور ود ہولڈنگ ٹیکس کو 3 فیصد پر لائے تاکہ ٹیکس کے حوالے سے سروس فراہم کرنے والے اُن اداروں کی ذمہ داری کی درست عکاسی ہو سکے، جو قانون کے پابند ہیں۔ پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک تحریری اپیل بھی ایف پی سی سی آئی کی قیادت کو پیش کی گئی، جس میں ایف بی آر اور وزارتِ خزانہ سے فوری طور پر رابطہ کرکے مؤثر وکالت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان