لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ آئی پی اے۔ 23 جون 2025ء ) فپواسا اور آسا نے ٹیکس ریبیٹ بحال کرنے اور وزیر اعلی مریم نواز سے جامعات کا بجٹ بڑھانے کا مطالبہ کر دیا ۔ پریس کانفرنس میں پنجاب یونیورسٹی آسا کے صدر ڈاکٹر امجد مگسی، فپواسا پنجاب کے صدر ڈاکٹر محمد اسلام نے شرکت کی۔ پریس کانفرنس میں فپواسا بلوچستان کے صدر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ نے بھی خصوصی شرکت کی۔

ڈاکٹر امجد مگسی نے کہا کہ پنجاب میں 51 یونیورسٹیوں کے لئے 18 ارب کی ریکرنگ گرانٹ رکھی گئی۔ بسوں اور چھوٹے چھوٹے منصوبوں پر کئی سو ارب روپے خرچے جا رہے ہیں، سندھ میں 42 ارب روپے کی ریکرنگ گرانٹ 31 یونیورسٹیوں کودی جا رہی ہے، اسلام آباد میں ذاتی پسند پر اربوں روپے دانش یونیورسٹی کے لئے وقف کئے گئے۔

(جاری ہے)

ملک میں اعلی تعلیم کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر محمد اسلام نے کہا کہ حکمران جھوٹے اور مکار ہیں، یہ یونیورسٹیاں بند کرنے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر کلیم اللہ نے کہا کہ بلوچستان میں یونیورسٹیاں بند ہونے کے قریب ہیں۔ فپواسا نے اساتذہ و محققین کی ٹیکس ریبیٹ ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کر دیا۔ فپواسا نے کہا کہ ٹیکس ریبیٹ کا خاتمہ اعلیٰ تعلیم و تحقیق پر سنگین حملہ ہے۔ اساتذہ تحقیقاتی اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں، ٹیکس ریبیٹ تحقیق کے اخراجات کم کرنے کا واحد ذریعہ تھی، ایف بی آر نے اربوں کی گاڑیاں خریدیں، آئی ایم ایف کو اعتراض نہیں، اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 600 فیصد اضافہ، اس پر کوئی اعتراض نہیں، 75 فیصد ٹیکس ریبیٹ 2006 میں دی گئی، 2013 میں کم، 2025 میں ختم کر دی گئی۔

ن لیگ نے 2013 میں ٹیکس ریبیٹ کم کی، اب مکمل ختم کر دی، اساتذہ کا استحصال بند کیا جائے، ٹیکس ریبیٹ بحال کی جائے۔ ٹیکس ریبیٹ کے خاتمے سے تحقیق کا معیار اور مقدار متاثر ہو گی۔ وفاقی بجٹ 5.

9 ٹریلین سے 17.5 ٹریلین تک بڑھا، مگر اعلیٰ تعلیم کا بجٹ منجمد 126 سے 160 جامعات ہو گئیں، مگر ٹیکس ریبیٹ اور بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا۔ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان صرف 0.8 فیصد تعلیم پر خرچ کر رہا ہے جبکہ اعلیٰ تعلیم پر اس بھی کم، یونیسکو کی سفارش 4 سے 6 فیصد، ہم 0.8 فیصد بھی نہ دے سکے، تحقیقی بجٹ میں اضافہ نہ ہوا تو جامعات کا نظام بیٹھ جائے گا، انتخابی منشور میں وعدے کیے، مگر عمل صفر، اساتذہ کو عزت دیجیے، ٹیکس ریبیٹ مت چھینیے۔ حکومت نے مطالبات پورے نہ کیے تو ملک گیر احتجاج ہو گا۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ٹیکس ریبیٹ نے کہا کہ

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف