— فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ شریک جرم ہونے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی جان قربان کردے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق جج جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ راولپنڈی بار سے خطاب کے بعد جو واقعہ ہوا اس پر اکثر لوگوں نے کہا کہ یہ آپ نے کیا کیا۔

سابق جج جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ لوگوں نے کہا کہ آپ نے تو چیف جسٹس بننا تھا، شریک جرم بن کر آپ کتنا ہی اختیار پالیں یا دولت اکٹھی کرلیں، آخر میں پچھتائیں گے کہ مجھ سے غلطی ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ خواہش تھی کہ ہائیکورٹ بار میں آؤں، 30 ستمبر 2018 میں آخری مرتبہ بار آیا تھا، بار کا مقروض ہوں کہ مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑی ہوئی۔

جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی موجودہ بلڈنگ جس جگہ پر ہے وہ 2012 میں ہم نے لی، چیئرمین سی ڈی اے کو کہا ہمیں ہائیکورٹ کے لیے مجوزہ جگہیں دکھائیں، چیئرمین سی ڈی اے کو کہا کہ بورڈ میٹنگ میں ڈسکس کریں اور تمام چیزیں لے کر آئیں۔

شوکت صدیقی نے کہا کہ چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ یہ جگہ ایسی ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ اس پر کسی اور کی نظر نا ہو، میں چاہ رہا تھا کہ تمام چیزیں دستاویزات کے ساتھ ریکارڈ پر آ جائیں، بلڈنگ کے ڈیزائن سے متعلق کمپیٹیشن کرایا جس میں سیکڑوں آرکیٹیکس نے حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک تھیم لے کر چل رہے تھے کہ روشن اور ہوادار ماحول ہوگا مگر ایسا نہیں ہوسکا، یہ بلڈنگ نومبر 2015 میں مکمل ہونا تھی، کنٹریکٹ تبدیل ہونے پر پراجیکٹ 5 سال لیٹ ہو جائے گا، یہاں پر صرف انصاف ہوگا اور سب کے لیے برابر ہوگا۔

جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ یہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہے، فیڈرل ہائی کورٹ نہیں، میرا مؤقف ہے کہ یہاں پر ججز کی تعیناتیاں اسلام آباد سے ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ این آئی آر سی کے 6 میں سے 5 بینچز کو ویڈیو لنک کے ساتھ منسلک کردیا ہے، وکلا اب اپنے شہروں میں رہ کر ویڈیو لنک پر دلائل دے دیتے ہیں، ٹی اے ڈی اے کی مد میں بچنے والی رقم کو ملازمین پر خرچ کیا جارہا ہے، صرف پشاور کا بینچ ابھی فی الحال ویڈیو لنک سے منسلک نہیں ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی ہائی کورٹ

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات