9 مئی کے کیسز میں سابق وزیراعظم عمران خان کی ضمانتیں خارج
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے 8 مقدمات میں ضمانتیں خارج کردی ہیں۔
یہ محفوظ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سنایا۔
عدالت نے اپنا مختصر فیصلہ سنایا ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طرف سے 8 مختلف مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں ۔ لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد گزشتہ روز یہ فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اور آج عدالت نے سابق وزیراعظم کی ساری درخواستیں مسترد کرنے کا مختصر فیصلہ سنا دیا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کا موقف تھا کہ عمران خان 2 سال سے قید ہیں، اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی ثبوت سامنے نہیں آسکا، اس لیے عدالت ان کی ضمانت منظور کرے جبکہ پراسیکیوشن ٹیم کا کہنا تھا کہ وہ 3 مقدمات میں نامزد ہیں جن میں 2 قتل کے مقدمات شامل ہیں۔ دیگر مقدمات کے مطابق ان کے ایما پر جلاؤ و گھیراؤ کیا گیا۔
عدالت نے طویل سماعتوں کے بعد گزشتہ روز کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
واضح رہے کہ لاہور میں عمران خان کے خلاف 12 مقدمات درج تھے جن میں سے 4 مقدمات میں انسداد دہشتگردی عدالت نے ضمانت لے لی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مقدمات میں عدالت نے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔