عسکری کارروائی کے مکمل خاتمے کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، ایرانی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
TEHRAN:
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے عسکری کارروائی کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل اپنی غیر قانونی جارحیت کو روکتا ہے، تو ایران بھی مزید جوابی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا۔
عراقچی نے اپنے پیغام میں واضح کیا جیسا کہ ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ جنگ کا آغاز اسرائیل نے کیا، نہ کہ ایران نے۔
As Iran has repeatedly made clear: Israel launched war on Iran, not the other way around.
As of now, there is NO "agreement" on any ceasefire or cessation of military operations. However, provided that the Israeli regime stops its illegal aggression against the Iranian people no… — Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 24, 2025
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو تہران کے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بجے تک اپنے حملے روکنے چاہیے تھے جو اب گزر چکا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ فی الحال کسی جنگ بندی یا فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ تاہم، اگر اسرائیلی حکومت ایرانی عوام پر اپنی غیر قانونی جارحیت کو 4 بجے تک روک دیتی ہے، تو ہمارا بھی مزید جواب دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔