وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرِصدارت محرم الحرام کے انتظامات کیلئے اجلاس، انتظامیہ سے پلان طلب
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز- فوٹو فائل
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِصدارت محرم الحرام کے انتظامات کے لیے اجلاس ہوا، اس دوران وزیراعلیٰ نے انتظامیہ سے فوری ہنگامی پلان طلب کر لیے ہیں۔
ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے کوڈ آف کنڈکٹ پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ خلاف ورزی پرزیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دعا ہے سال نو عوام کے لیے خوشی اور خوشحالی کی نوید ہو۔
وزیرِ اعلیٰ نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایت جاری کی۔
انہوں نے بینرز، پوسٹر آویزاں کرنے اور وال چاکنگ پر پابندی یقینی بنانے کا حکم دیا۔
وزیر اعلیٰ نے ڈرون اڑانے پر پابندی، خلاف ورزی پر فوری گرفتاری کی ہدایت بھی دیں۔
وزیراعلیٰ نے محرم الحرام میں اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کو نفرت انگیز مواد کی مانیٹرنگ کا ٹاسک اور رپورٹنگ کا حکم بھی دیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے سیف سٹی اتھارٹی کو خراب کیمرے ٹھیک کرانے اور سیکیورٹی انتظامات کی فرضی مشقیں شروع کرنے کی ہدایت بھی دیں۔
محرم کے جلوس اور مجالس کےلیے یکساں طرز پر سبیلیں لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان سبیلوں میں شربت، لیموں پانی اور ٹھنڈے پانی کی بوتلیں مہیا کی جائیں۔
اجلاس میں جلسوں اور مجالس میں سیکیورٹی کے لیے لوہے کے پائپ نصب کرنے عاشورہ کے جلسوں کے ساتھ فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویل بھی متعین کرنے ہدایات بھی جاری کی گئی۔
اس موقع پر وزیرِاعلیٰ پنجاب نے کہا کہ محرم الحرام کو حساس تصور کیا جائے، دشمن قوتیں موقع نہیں جانے دیں گی، بُنیان المرصوص کی کامیابی سے منفی قوتیں خائف ہیں، ہمیں تیار رہنا چاہیے اور ہر موقع پر انتظامات کو پہلے سے زیادہ بہتر ہونا چاہیے، عوام کو ہر جگہ پر حکومت اور حکومت کی رٹ نظر آنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک و قوم کو نفرت، تعصب اور تفرقہ بازی سے بچانا ہماری ذمہ داری ہے، تفرقہ اور نفرت نئی نسل کےلیے زہر ہے، ہر قیمت پر اس کا خاتمہ چاہتے ہیں، نفرت اور تعصب کے خاتمے لیے موثر اور پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے ایس او پیز عملی طور پر اقدامات نظر آنے چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: محرم الحرام مریم نواز کا حکم
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔