محرم الحرام کا چاند 26جون کو نظر آنے کا امکان، سپارکو کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
محرم الحرام کا چاند 26جون کو نظر آنے کا امکان، سپارکو کی پیشگوئی WhatsAppFacebookTwitter 0 24 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان کے خلائی و بالائی تحقیقاتی ادارے سپارکو نے محرم الحرام 1447 ہجری کے چاند سے متعلق پیشگوئی جاری کر دی ہے۔ ترجمان سپارکو کے مطابق نئے اسلامی سال کا آغاز 27 جون 2025 بروز جمعہ ہونے کا امکان ہے۔
ترجمان کے مطابق چاند کی پیدائش 25 جون 2025 کو سہ پہر 3 بج کر 32 منٹ پر متوقع ہے جب کہ 26 جون کی شام غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریبا 28 گھنٹے 15 منٹ ہو چکی ہوگی جو رویت کے لیے موزوں مانی جاتی ہے۔
ساحلی علاقوں میں غروب آفتاب اور غروب ماہتاب کے درمیان دورانیہ 75 منٹ ہو گا یہ دورانیہ چاند کی واضح ریت کے لیے انتہائی موافق حالات فراہم کرتا ہے۔ ترجمان سپارکو کے مطابق 26 جون 2025 بروز جمعرات کو محرم کا نیا چاند نظر آنے کے قوی امکانات ہیں اس لحاظ سے یکم محرم الحرام 1447 ہجری 27 جون 2025 کو ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکے پی حکومت نے بجٹ پاس کرنے کیلئے عمران خان کا دو دن بھی انتظار نہیں کیا، علیمہ خان کے پی حکومت نے بجٹ پاس کرنے کیلئے عمران خان کا دو دن بھی انتظار نہیں کیا، علیمہ خان اسرائیل اور ایران دونوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی،مجھے یہ پسند نہیں آیا، اسرائیل سے بہت ناخوش ہوں،ٹرمپ عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں مسترد جدہ میں قائم پاکستان انٹرنیشنل سکول بینظیر کا اوورسیز پاکستانیز کے لیے بہترین تحفہ ہے ،تصور چوہدری ڈنمارک کے سفارت خانے کے وفد کی اڈیالہ جیل آمد چینی ٹی وی کے ایک عوامی پول میں شرکاء کی ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کی سخت مذمتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محرم الحرام
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔