غزہ میں ’خوراک‘ کو ہتھیار بناکر اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں خوراک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اسرائیلی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے افراد پر گولیاں چلانا بند کرے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کے لیے خوراک کو ہتھیار بنانا، یا ان کی زندگی بچانے والی خدمات تک رسائی کو روکنا بین الاقوامی قوانین کے مطابق جنگی جرم ہے، اور بعض حالات میں یہ دیگر جرائم کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا عسکری امدادی نظام عالمی امدادی اصولوں سے متصادم ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ غزہ میں بھوکے اور مایوس فلسطینیوں کو یا تو بھوک سے مرنے یا پھر خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں مارے جانے کے غیر انسانی انتخاب کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) نے 26 مئی سے غزہ میں امدادی اشیاء کی تقسیم شروع کی ہے۔
جس پر اقوام متحدہ اور بڑی امدادی تنظیموں نے GHF کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے، کیونکہ یہ تنظیم اسرائیلی فوجی مفادات کے تابع سمجھی جا رہی ہے اور اس کی مالی معاونت کے ذرائع غیر شفاف ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترجمان، ثمین الخیتان نے بتایا کہ GHF کے قیام کے بعد سے اب تک 410 سے زائد فلسطینی خوراک لینے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی قافلوں کے قریب جانے کی کوشش پر اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مزید 93 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے ان ہلاکتوں کی فوری اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ان واقعات میں کم از کم 3,000 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ GHF کے خوراک تقسیم مراکز پر "افراتفری اور بھگدڑ جیسے مناظر" عام ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی کوشش
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔