Jasarat News:
2026-06-03@06:21:33 GMT

حیدرآباد ،نکاسی و فراہمی آب کا نظام تباہ

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد کے شہریوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے والے ادارہ واسا کو واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں تبدیل کئے جانے کے بعد شہر میں نکاسی و فراہمی آب کا نظام تباہ ہوکر رہ گیا، واسا کے تالابوں میں پانی کا ذخیرہ وافر مقدار میں ہو نے کے باوجود واسا انتظامیہ نے شہر کے80فیصد علاقوں کے عوام کوبجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا جواز ظاہرکرکے پینے کے پانی سے محروم کردیا اور گذشتہ 15دن سے پانی کی فراہمی مکمل بند ہو نے پر مساجد میں بھی وضو کیلئے پانی دستیاب نہیں ہے اور گیلن مافیا پیاسے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگی جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے شہر میں پینے کے پانی کے بحران پر ابتک کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ہے جس کی وجہ سے شہری دور دراز علاقوں سے پانی لاکر اپنی ضروریات پوری کر نے پر مجبور ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق حیدرآباد شہر کے80فیصد علاقوں جن میں پسماندہ اور کچی آبادیوں کی تعداد زیادہ ہے گذشتہ 15دن سے پینے کے پانی کی فراہمی مکمل طور پر بند ہے یا پھر مطلوبہ مقدار سے کم پانی فراہم کیا جارہاہے جس کے باعث لوگ پانی کی بوند بوندکو ترس گئے ہیں اور شہریوں کوسخت اذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ شہری پینے کے پانی کے گیلن اور منرل واٹر کی بوتلیں مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں اور منرل واٹر خریدنے کی طاقت نہ رکھنے والے غریب شہری دور دراز کے علاقوں سے پانی لاکر اپنی ضروریات پوری کر رہے ہیں یا پھر زمینی (بورنگ) کا زہریلا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور اب صورتحال اس نہج کو پہنچ چکی ہے کہ مساجد میں بھی وضو کیلئے پانی دستیاب نہیں ہے لیکن بے حس واسا انتظامیہ اورضلعی حکومت کے کان پرجوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق واسا کے تالابوں میں پانی کا ذخیرہ وافر مقدار میں ہو نے کے باوجود واسا کی نا اہلی اور بد انتظامی کی وجہ سے لاکھوں شہری پینے کے پانی سے محروم ہیں اور حیدرآباد کے علاقے حالی روڈ،امریکن کواٹرز،ممتاز کالونی ، گڈس ناکہ، ملت آباد، ٹنڈو طیب، پھلیلی ،پریٹ آباد، فقیر کاپڑ، گاڑی کھاتہ ،کھوکھر محلہ ،قاضی ق قیوم روڈ،ممتاز کالونی ،ہوم اسٹیڈ ہال ،پکا قلہ ا ور لطیف آبادکے یونٹ نمبر11.

12.7.8.9.10اور جی او آر کالونی سمیت قاسم آبا دکے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی اب تک بند ہے اور ان علاقوں کے مکین ہاتھوں میں پانی کے گیلن اور کولر اٹھائے پانی کی تلاش میں سر گرداںنظر آتے ہیںجبکہ شہر میں پینے کے پانی کی پیدا ہونے والی قلت کے باعث گیلن مافیا کی چاندی ہوگئی ہے اور وہ پیاسے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے ،30 روپے میں فروخت ہونے والا 15لیٹر پانی کا گیلن اب 60سے 80روپے میں فروخت کیا جارہا ہے جو کہ ایک غریب شہری خریدنے کے قاصر ہے اور وہ دور دراز کے علاقوں سے گدھا گاڑیوں ،ہاتھ ٹھیلوں اور دیگر ذرائع سے پانی لا کر اپنی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پینے کے پانی شہریوں کو سے پانی پانی کی ہیں اور ہے اور

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا