ایران کو اپنے دفاع اور یورینیم کی افزودگی کا قانونی حق حاصل ہے، روس
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
سیکورٹی کونسل میں اپنے ایک خطاب سے واسیلی نبنزیا کا کہنا تھا کہ NPT کا رکن ملک نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل کی اس اجلاس میں شرکت باعث تعجب ہے۔ اسرائیل کیوں سلامتی کونسل میں موجود ہے؟۔ اسلام ٹائمز۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ میں روسی نمائندے "واسیلی نبنزیا" نے کہا کہ NPT معاہدے کے تحت اسلامی جمہوریہ ایران کو یورینیم کی افزودگی کا مکمل حق حاصل ہے۔ ایران کا یہ جائز و قانونی حق ہے کہ وہ کسی بھی دراندازی کا موثر جواب دے۔ انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف اسرائیل کے حملوں کو، اقوام متحدہ کے منشور اور NPT معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیل پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ NPT کا رکن ملک نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل کی اس اجلاس میں شرکت باعث تعجب ہے۔ اسرائیل کیوں سلامتی کونسل میں موجود ہے؟۔
واسیلی نبنزیا نے کہا کہ ایران، پابندیوں میں ریلیف کا فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ "ڈونلڈ ٹرامپ" کے گزشتہ دور صدارت میں جوہری مذاکرات سے امریکہ کی یکطرفہ دستبرداری نے معاہدے کے ثمرات کو ماند کر دیا۔ انہوں نے یورپ کے منافقانہ طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران وہ ملک ہے جس کی ایٹمی تنصیبات کا سب سے زیادہ معائنہ کیا گیا اور IAEA کو اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایران، جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ روسی نمائندے نے اس بات کی وضاحت کی کہ ہمارے یورپی ساتھیوں کی منافقت کی وجہ سے گورننگ کونسل نے ایران کے خلاف قرارداد منظور کی اور اس کے بعد اسرائیل اور پھر امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل اسرائیل کی اجلاس میں کہا کہ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔