سیکورٹی کونسل میں اپنے ایک خطاب سے واسیلی نبنزیا کا کہنا تھا کہ NPT کا رکن ملک نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل کی اس اجلاس میں شرکت باعث تعجب ہے۔ اسرائیل کیوں سلامتی کونسل میں موجود ہے؟۔ اسلام ٹائمز۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ میں روسی نمائندے "واسیلی نبنزیا" نے کہا کہ NPT معاہدے کے تحت اسلامی جمہوریہ ایران کو یورینیم کی افزودگی کا مکمل حق حاصل ہے۔ ایران کا یہ جائز و قانونی حق ہے کہ وہ کسی بھی دراندازی کا موثر جواب دے۔ انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف اسرائیل کے حملوں کو، اقوام متحدہ کے منشور اور NPT معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیل پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ NPT کا رکن ملک نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل کی اس اجلاس میں شرکت باعث تعجب ہے۔ اسرائیل کیوں سلامتی کونسل میں موجود ہے؟۔

واسیلی نبنزیا نے کہا کہ ایران، پابندیوں میں ریلیف کا فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ "ڈونلڈ ٹرامپ" کے گزشتہ دور صدارت میں جوہری مذاکرات سے امریکہ کی یکطرفہ دستبرداری نے معاہدے کے ثمرات کو ماند کر دیا۔ انہوں نے یورپ کے منافقانہ طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران وہ ملک ہے جس کی ایٹمی تنصیبات کا سب سے زیادہ معائنہ کیا گیا اور IAEA کو اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایران، جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ روسی نمائندے نے اس بات کی وضاحت کی کہ ہمارے یورپی ساتھیوں کی منافقت کی وجہ سے گورننگ کونسل نے ایران کے خلاف قرارداد منظور کی اور اس کے بعد اسرائیل اور پھر امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سلامتی کونسل اسرائیل کی اجلاس میں کہا کہ

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ