ایک دن کیلئے نتھیا گلی گیا، سوشہ چھوڑ دیا گیا کہ کسی سے ملاقات کی ہے، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر عدالت آئے ہیں اور کئی دنوں سے ان سے ملاقات کی کوششیں جاری تھیں، لیکن ایک منظم سازش کے تحت انہیں روکا جا رہا ہے۔
علی امین گنڈا پور نے کہا، ’یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ہمارے خلاف ایک سازش ہو رہی ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے ہمیں خود کہا کہ سپریم کورٹ جائیں، اسی لیے میں آج یہاں آیا ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ کمرہ عدالت میں جسٹس منصور علی شاہ موجود تھے اور انہوں نے بولنے کا موقع دیا۔ ’میں نے جسٹس منصور کو بانی پی ٹی آئی کے خط کے حوالے سے آگاہ کیا۔ ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا اور 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کو عملی طور پر ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ملک کے لیے قربانیاں دے چکے ہیں اور اب بھی اداروں سے امید رکھتے ہیں کہ انصاف ہوگا۔ ’بطور وزیراعلیٰ میں یہاں آیا ہوں، ارادہ تھا کہ چیف جسٹس سے بھی گفتگو ہو، امید ہے ہماری درخواست جلد سماعت کے لیے مقرر ہو گی۔‘
بجٹ سے متعلق سوال پر علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا، ’بانی پی ٹی آئی کا وژن سب کے سامنے ہے۔ جو بجٹ ہم نے دیا ہے، وہ تمام پیش کیے گئے بجٹوں میں سب سے بہترین ہے۔‘
انہوں نے ’’مائنس بانی پی ٹی آئی‘‘ کے بیانیے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا، ’ایسی باتیں محض مفروضے ہیں، جو لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں وہ عقل سے عاری ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے ہوتے ہوئے مجھے کسی بڑے عہدے کی خواہش نہیں، ایسی باتیں کرنا محض بیوقوفی ہے۔‘
علی امین گنڈا پور نے نتھیا گلی میں قیام سے متعلق بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’میں صرف ایک دن کے لیے وہاں گیا تھا، اور کل ایک نیا سوشہ چھوڑ دیا گیا کہ میری کسی سے ملاقات ہوئی ہے۔ یہ سب جھوٹ ہے، صرف پیسے کمانے کے لیے یہ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔‘
وزیراعلیٰ نے گفتگو کے اختتام پر واضح کیا کہ، ’’بانی پی ٹی آئی ہی ہماری سیاست کی ترجیح ہیں، اور ہم ان کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور بانی پی ٹی آئی کے لیے
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔