عمران خان کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں مسترد
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی کافیصلہ سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی وکلا کا لاہور ہائی کورٹ میں احتجاج
غیر متعلقہ افراد کوکمرہ عدالت سے نکال دیا گیا، فواد چوہدری بھی عدالت پہنچ گئے تھے
لاہور ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں۔فیصلہ سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی سے متعلق رکھنے والے وکلا نے کورٹ میں احتجاج کیا۔قبل ازیں کمرہ عدالت سے غیر متعلقہ افراد کو نکال دیا گیا تھا جب کہ اس سلسلے میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری بھی عدالت پہنچ گئے تھے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شہباز علی رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی جس دوران متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے تھے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان نے 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی تھیں جس پر سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف جناح ہاوس اور عسکری ٹاور جلا وگھیراو کے مقدمات درج ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں لاہور ہائی کورٹ بانی پی ٹی ا ئی درخواستوں پر کی 9 مئی مئی کے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔