تین ماہ حراست کا نیا ایکٹ بن گیا، ایسا ہر قانون پی ٹی آئی کیخلاف بنایا جاتا ہے، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما او رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومتی اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم قائد اعظم کے پاکستان کو واپس لینے کی کوشش کریں گے اور 14 اگست کو حقیقی آزادی کے دن کے طور پر منائیں گے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن رکن اسد قیصر نے نکتہ اعتراض میں کہا کہ 14 اگست کو پاکستان بنا، قائداعظم نے اپنی قوم جو پاکستان دیا یہ وہ پاکستان نہیں ہے، ہم 14 اگست کو جشن آزادی منائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم قائداعظم کے پاکستان کو واپس لینے کی کوشش کریں گے، ہم 14 اگست کو حقیقی آزادی کے دن کے طور پر منائیں گے، 14 اگست کو جشن پاکستان کے لیے نکلنا ہے۔
اسد قیصر نے کہا کہ اس وقت خیبرپختونخوا (کےپی) میں آپریشن پر بات کرنا چاہتا ہوں، آج نیا قانون بن گیا ہے کہ 3 ماہ تک کسی شخص کو گرفتار رکھا جاسکتا ہے، جو بھی قانون بنتا ہے پی ٹی آئی کے خلاف استعمال کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قانون سازی کی ہم مذمت کرتے ہیں، کیا اس طرح کی قانون سازی بھٹو کے دیے آئین کے مطابق کی جاسکتی ہے، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے اقتدار کے لیے بھٹو کا دیا قانون اپنے ہاتھوں سے ختم کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی دہشت گرد کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ ہماری سرزمین استعمال کرے، باجوڑ میں آپریشن شروع ہوچکا ہے، بتائیں بارڈر کس کے پاس ہے، یہ آپریشنز خیبرپختونخوا کی معدنیات پر قبضے کے لیے ہو رہے ہیں۔
رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کریں، سرحدی علاقوں سے کیسے دہشت گرد آجاتے ہیں، جو آپریشن ہو رہا ہے وفاقی حکومت کر رہی ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اسد قیصر نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ افغان پالیسی پر نظر ثانی کریں، ہمارا این ایف سی شیئر 19 فیصد دیا جائے، ایک ہزار ارب روپے سابق فاٹا کو دینے کا وعدہ پورا کریں اور آپریشن فوری بند کیا جائے۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کہہ رہے ہیں کہ آپریشن ان کی مرضی سے ہو رہا ہے، وزیر اعلیٰ ٹارگٹڈ آپریشن ان کی مرضی سے ہونے کی بات کررہے ہیں۔
امیرمقام نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کہیں کہ آپریشن ان کی مرضی سے نہیں ہو رہا ہے، جب وزیر اعلیٰ آپریشن سے متفق ہیں تو یہاں ایسی باتیں کیوں کی جارہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر اعلی نے کہا کہ اگست کو کے لیے
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔