وکلاء کی فلاح وبہبود کے منصوبوں کو سیاست کی نذرنہیں ہونے دیں گے،وفاقی وزیر قانون وانصاف سینیٹراعظم نذیرتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 ستمبر2025ء) وفاقی وزیر قانون وانصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاہے کہ وکلا کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جارہے ہیں،وکلا کی فلاح وبہبود کے منصوبوں کو سیاست کی نذرنہیں ہونے دیں گے،وکلا کامعاشرے میں کلیدی کردارہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی ،ڈی ایچ اے اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مشترکہ رہائشی منصوبے مارگلہ آرچرڈ پارک روڈ ہاؤسنگ سکیم کے ترقیاتی کاموں بارے سہ فریقی معاہدے پر دستخطوں کی باضابطہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
وفاقی وزیر قانون وانصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ آئینی ترمیم میں وکلا کی تجاویزشامل کی گئیں،قانونی اصلاحات میں قانونی برادری سے مشاورت یقینی بنائی جاتی ہے،فوجداری نظام میں اہم اصلاحات لائی گئی ہیں۔(جاری ہے)
انہوں نے وکلا کی رہائشی اسکیم میں ترقیاتی کاموں بارے مفاہمتی معاہدے کو خوش آئند قرار دیا اور کہاکہ وکلا کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی سطح پر ہر ممکنہ تعاون جاری رہے گا ۔
تقریب سے وفاقی وزیر ہائوسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ نے بھی خطاب کیا اور کہاکہ ترقیاتی کاموں کی شروعات کے حوالے سے یہ ایک تاریخی معاہدہ ہوگا جس کے بعد اس پروجیکٹ پر باقاعدہ طور پر تیزی سے کام شروع ہو جائے گا اور یہ پروجیکٹ جلد از جلد اپنی تکمیل کو پہنچے گا ۔اس منصوبے کے تحت فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی اپنے معزز الاٹیز کو عالمی معیار کی جدید اور سہولیات سے آراستہ رہائشی ماحول فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکیم میں کمرشل ایریاز، پارکس، تعلیمی ادارے، مساجد اور دیگر عوامی سہولیات کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی ہے۔ ریاض حسین پیرزادہ نے کہاکہ وکلا برادری کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں ہمہ وقت کوششیں جاری رہیں گی ۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی وزیر وکلا کی کی فلاح
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔