ٹرمپ جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، امریکی اہلکار کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
امریکی صدر اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔
یہ بات ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے بتائی ہے۔ ان کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی سلامتی، افغانستان کی صورتحال اور تجارتی تعاون پر بات چیت ہوگی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔
خطے میں دہشتگردی کے بڑھتے خدشات، افغانستان میں طالبان کی حکومت اور بھارت کے ساتھ کشیدگی جیسے عوامل اس گفتگو کو مزید اہم بنا رہے ہیں۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ، جو آئندہ امریکی صدارتی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں، اس ملاقات کو اپنی خارجہ پالیسی کے عزائم اجاگر کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی جانب سے اس ملاقات پر باضابطہ بیان ابھی تک سامنے نہیں آیا، تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی یہ ملاقات عالمی سطح پر پاکستان کے تعلقات کو مزید فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔