اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں فوجی اہلکاروں کے جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات میں ملوث ہونے پر اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انتونیو گوتریس نے یہ انتباہ اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینون کو لکھے گئے ایک خط میں جاری کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اسرائیلی فوجیوں کے فلسطینیوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث ہونے کے مصدقہ شواہد ہیں۔

انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ اسرائیلی مسلح افواج اور سیکیورٹی فورسز نے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

انتونیو گوتریس کا یہ خط اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ سے قبل جاری کیا گیا جو جنگی تنازعات میں جنسی تشدد سے متعلق ہے۔

خط میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کو متعدد جیلوں، حراستی مراکز اور ایک فوجی اڈے میں ہونے والی خلاف ورزیوں کی مصدقہ معلومات ملی ہیں۔

انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ مجھے فلسطینیوں کے خلاف جنسی تشدد کی اطلاعات پر شدید تشویش ہے، جن کا ارتکاب اسرائیلی مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں نے کیا۔

سیکرٹری جنرل یو این او نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کے مبصرین کو متاثرہ مقامات تک مکمل رسائی نہیں دی گئی جس کے باعث مکمل اعداد و شمار نہیں مل سکے۔

انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ اس کے باوجود، اقوام متحدہ نے جنسی زیادتی کے متعدد واقعات شواہد کے ساتھ مسلسل نشاندہی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے یہ واقعات باعثِ تشویش ہیں اور میں اسرائیلی افواج کو نگرانی کی فہرست میں شامل کر رہا ہوں۔

اقوام متحدہ نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا ہے کہ جنسی تشدد کے تمام واقعات کی تحقیقات کرکے اس کا فوری خاتمہ یقینی بنایا جائے اور اقوام متحدہ کو اپنے ٹھوس اقدامات سے بھی آگاہ کریں۔

اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینون نے گوتریس کے الزمات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد اور جانب دار ذرائع پر مبنی ہیں۔

اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینون نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتونیو گوتریس اسرائیل پر "جھوٹے الزامات" لگانے کے بجائے حماس کے جنگی جرائم پر توجہ دیں۔

 

 .

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انتونیو گوتریس نے جنسی زیادتی اقوام متحدہ کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم