وزیراعظم کی انتونیو گوتریس سے ملاقات، پاکستان میں دہشت گردی اسپانسر کیے جانےکا معاملہ اٹھادیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
وزیراعظم نے یو این سیکرٹری جنرل سے مسئلہ کشمیر اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر بھی بات کی
وزیراعظم شہبازشریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر ، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور پاکستان میں دہشتگردی اسپانسر کیے جانے کا معاملہ اٹھادیا۔ نیویارک میں جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کے بعد ہوئی اس ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے اہم قومی اور علاقائی امور پر بات کی۔وزیراعظم نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پرامن حل سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تلاش کیا جائے۔وزیراعظم نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں کشیدگی ختم کرنے اور امن اور استحکام کے لیے سیکرٹری جنرل کے کردار کی ستائش کی۔وزیراعظم شہبازشریف نے غزہ میں فوری جنگ بندی کےلیے پاکستان کی بھرپور حمایت کی اور فلسطینی ریاست کے قیام کا رستہ کھولنے پر زور دیا۔وزیراعظم نے ملٹی لیٹرل ازم کو مضبوط کرنے اور دنیاکو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر پاکستان کے عزم کو دہرایا۔وزیراعظم نے حالیہ سیلاب سےنمٹنے میں پاکستانی حکومت کے کردار کو سراہنے پر اظہار تشکر کیا اور زور دیا کہ ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کرنےوالے پاکستان جیسے ممالک کےلیے اضافی فنانسنگ کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :