وزیراعظم نے یو این سیکرٹری جنرل سے مسئلہ کشمیر اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر بھی بات کی

وزیراعظم شہبازشریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر ، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور پاکستان میں دہشتگردی اسپانسر کیے جانے کا معاملہ اٹھادیا۔ نیویارک میں جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کے بعد ہوئی اس ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے اہم قومی اور علاقائی امور پر بات کی۔وزیراعظم نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پرامن حل سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تلاش کیا جائے۔وزیراعظم نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں کشیدگی ختم کرنے اور امن اور استحکام کے لیے سیکرٹری جنرل کے کردار کی ستائش کی۔وزیراعظم شہبازشریف نے غزہ میں فوری جنگ بندی کےلیے پاکستان کی بھرپور حمایت کی اور فلسطینی ریاست کے قیام کا رستہ کھولنے پر زور دیا۔وزیراعظم نے ملٹی لیٹرل ازم کو مضبوط کرنے اور دنیاکو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر پاکستان کے عزم کو دہرایا۔وزیراعظم نے حالیہ سیلاب سےنمٹنے میں پاکستانی حکومت کے کردار کو سراہنے پر اظہار تشکر کیا اور زور دیا کہ ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کرنےوالے پاکستان جیسے ممالک کےلیے اضافی فنانسنگ کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار