بھارت میں تعینات اسرائیلی سفیر رووین آزار نے کانگریسی رہنما پریانکا گاندھی وڈرا کو اسرائیل کیخلاف فلسطین میں نسل کشی کا الزام عائد کرنے پرتنقید کا نشانہ بنایا، سوشل میڈیا میں ان کی تنقیدی پوسٹ پر کانگریس کے پاون کھیڑا اورگوروگوگوئی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی سفیر کے رویے کی مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’جو چاہوں وہ پہنوں گی‘، پریانکا گاندھی کا فلسطینی بیگ لینے پر مخالفین کو جواب

پاون کھیڑا نے ایک طویل پوسٹ میں کہا کہ کسی ملک کا سفیر برسرِاقتداررکنِ پارلیمنٹ پراس اندازمیں تنقید کرے، یہ ’ناقابلِ برداشت اورغیرمعمولی‘ ہے، انہوں نے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کو ٹیگ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پریانکا گاندھی کو ’عوامی طور پر دھمکانے‘ کی اس کوشش کو روکا جائے۔https://Twitter.

com/Pawankhera/status/1955231924697567422?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1955231924697567422%7Ctwgr%5E9c821aabffb99a0e77d2e8f55288ea12ad8aad12%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.ndtv.com%2Findia-news%2Freuven-azar-priyanka-gandhi-vadra-israel-genocide-in-gaza-claim-freedom-of-spech-regulatded-by-israel-congress-jabs-s-jaishankar-9075837

’جس ریاست پر دنیا بھر کی جانب سے نسل کشی کے الزامات عائد کیے جاچکے ہیں، اس کا سفیر ایک موجودہ رکنِ پارلیمنٹ کو نشانہ بنائے، یہ بھارتی جمہوریت کی توہین ہے۔۔۔کیا ڈاکٹر جے شنکر اسرائیلی سفیر کی اس دھمکی آمیز حرکت پر لب کشائی کریں گے یا بھارت میں آزادی اظہار اب اسرائیل سے کنٹرول ہو رہی ہے۔‘

مزید پڑھیں: پریانکا گاندھی نے الجزیرہ کے 5 صحافیوں کا قتل اسرائیل کا سفاک جرم قرار دیدیا

پاون کھیڑا نے اسرائیلی سفیر پر کو بھی ٹیگ کرتے ہوئے ان پر غزہ میں شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا، بقول ان کے ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو امداد کی قطار میں کھڑے تھے، اسی طرح گورو گوگوئی نے بھی اسرائیلی سفیر کے بیان کو پارلیمانی استحقاق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مرکزی حکومت خاموش ہے تو بھی پارلیمنٹ خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔

The disparaging comments made by a foreign Ambassador against a Member of Parliament of India is a serious breach of privilege. Even if the Union Government is silent, the Parliament cannot remain a passive spectator.

— Gaurav Gogoi (@GauravGogoiAsm) August 13, 2025

پریانکا گاندھی وڈرا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ اسرائیلی ریاست نسل کشی کر رہی ہے، اس نے 60 ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا ہے، جن میں 18,430 بچے شامل ہیں، اس نے سینکڑوں کو بھوکا مارا ہے اور لاکھوں کو بھوک سے مرنے کی دھمکی دے رہی ہے۔

’خاموشی اور بے عملی کے ذریعے ان جرائم کو جاری رہنے دینا خود ایک جرم ہے۔ بھارتی حکومت کا اس تباہی پر خاموش رہنا شرمناک ہے۔‘

مزید پڑھیں: شہید کے بیٹے کو غدار، میرجعفر کہنے والوں کو کوئی نااہل قرار نہیں دیتا، پریانکا گاندھی

پریانکا گاندھی کو جواب دیتے ہوئے اسرائیلی سفیر رووین آزار نے لکھا تھا کہ شرمناک آپ کا فریب ہے، اسرائیل نے 25 ہزار حماس دہشت گردوں کو مارا ہے۔ انسانی جانوں کا یہ بھاری نقصان حماس کی ظالمانہ حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جو شہریوں کے پیچھے چھپتے ہیں اور امداد لینے والے لوگوں پر فائرنگ کرتے ہیں۔

What is shameful is your deceit. Israel Killed 25,000 Hamas terrorists. The terrible cost in human lives derives from Hamas’s heinous tactics of hiding behind civilians, their shooting of people trying to evacuate or receive assistance and their rocket fire. Israel facilitated 2… https://t.co/e3lSUwfmXH

— ???????? Reuven Azar (@ReuvenAzar) August 12, 2025

’اسرائیل نے غزہ میں دو ملین ٹن خوراک پہنچائی، لیکن حماس اسے قبضے میں لینے کی کوشش کرتی ہے، جس سے بھوک پیدا ہوتی ہے۔‘

مزید پڑھیں:مسلمان طالبعلم سے ناروا سلوک ’اس ذہنیت کے ساتھ ہندوستان ترقی نہیں کر سکتا‘

یہ لفظی جنگ اس وقت ہورہی ہے، جب غزہ میں تشدد میں اضافہ اورانسانی بحران پرعالمی بحث شدت اختیار کررہی ہے، پریانکا گاندھی نے الجزیرہ نیوز کے 5 صحافیوں کے قتل کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے ’سنگین جرم‘ قرار دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ’تشدد اور نفرت کے ذریعے سچ کو دبانے‘ کی کوشش کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل اسرائیلی سفیر الجزیرہ ایکس پریانکا گاندھی پلیٹ فارم حماس رووین آزار سنگین جرم سوشل میڈیا صحافی غزہ کانگریس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی سفیر الجزیرہ ایکس پریانکا گاندھی پلیٹ فارم رووین آزار سنگین جرم سوشل میڈیا صحافی کانگریس پریانکا گاندھی اسرائیلی سفیر

پڑھیں:

گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔

متعلقہ مضامین

  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال