باجوڑ ؛ کرفیو میں نرمی کے بعد بازار کھل گئے، شہری مسلح گشت اور خود پہرہ دینے لگے
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
لوئر دیر:
باجوڑ میں کرفیو می نرمی کردی گئی جب کہ شہری مسلح گشت کرتے ہوئے خود اپنے علاقوں میں پہرہ دینے لگے۔
ضلعی انتظامیہ نے کرفیو میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے آج سے خار منڈا روڈ، خار ناواگی روڈ، خار صادق آباد، عنایت کلی روڈ کو کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان سڑکوں کے ساتھ ساتھ متصل علاقوں کے تمام بازار بھی مکمل طور پر کھلے رہیں گے۔
مقامی ذرائع کے مطابق باجوڑ میں رات کے اوقات میں شہری اپنے علاقوں کی حفاظت کے لیے پہرہ دیتے اور مسلح گشت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنا اور اپنے علاقوں کو محفوظ بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں باجوڑ کے حالات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور عمائدین و نوجوان جرگوں میں متفق ہوئے ہیں کہ اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور امن و امان کی صورتحال کو ہر حال میں قائم رکھا جائے گا۔
مختلف علاقوں میں شہریوں نے اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے مسلح نوجوانوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں، جو دن رات نگرانی اور گشت کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اپنے علاقوں
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔