خیبرپختونخوا کی حکومت باجوڑ کے معاملے پر ہمارے ساتھ ہے، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح کیا ہے کہ ملک میں کسی نئے یا بڑے فوجی آپریشن کا آغاز نہیں کیا گیا بلکہ معمول کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ آپریشنز کبھی چند گھنٹوں کے لیے ہوتے ہیں، کبھی ایک دن کے لیے، اور بعض اوقات طویل بھی ہو سکتے ہیں، جن میں سویلینز کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے تاکہ اجتماعی نقصان کم سے کم ہو۔
یہ بھی پڑھیں:
اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت باجوڑ کے معاملے پر ہمارے ساتھ ہے اور صوبوں کے ساتھ مکمل تعاون کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر صوبوں کے ساتھ مل کر عملدرآمد کیاجاتاہے۔
’ملک بھر میں روزانہ تقریباً 190 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہوتے ہیں، جن میں متعدد سندھ اور پنجاب میں جبکہ زیادہ تر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں انجام پاتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں:
انہوں نے بتایا کہ باجوڑ کی دو تحصیلوں میں مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات موجود ہیں جہاں افغان اور خوارج کی بڑی تعداد ہے، اور وہاں بھی نیشنل ایکشن پلان کے تحت آئی بی او کیے جا رہے ہیں، جن میں خیبر پختونخوا حکومت شامل ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے آپریشن مخالف بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ اس نوعیت کی باتیں قوم میں کنفیوژن پیدا کرتی ہیں۔ ’ایک بات پر وضاحت ہونی چاہیے کہ دہشت گردی نامنظور ہے اور پاکستان میں دہشت گرد نہیں رہے گا، ریاست اپنی پوری طاقت ان کے خلاف استعمال کرے گی۔‘
مزید پڑھیں:
طلال چوہدری انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ باجوڑ میں کسی بڑے آپریشن کی تیاری کی جا رہی ہے، ایسا کوئی آپریشن نہیں ہو رہا جس میں نقل مکانی اور بعد میں آبادکاری کی ضرورت پڑے، جیسا کہ ماضی میں ہوا۔
’آئی بی اوز ہماری روٹین کا حصہ ہیں اور کئی سالوں سے جاری ہیں، ان میں حکمت عملی اور ہتھیار کا فیصلہ گراؤنڈ فورس کرتی ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آر وائی باجوڑ طلال چوہدری وزیر مملکت برائے داخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ر وائی باجوڑ طلال چوہدری وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ