باجوڑ میں خوارجی دہشتگردوں کےخلاف کارروائی، ہزاروں قانون پسند شہریوں کی بقل مکانی
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
سٹی42: خیبر پختونخوا میں ضلع باجوڑ میں خوارجی دہشتگردوں کے خلاف حتمی کارروائی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کرتے ہوئے قانون کا احترام کرنے والے ہزاروں شہریوں کی نقل مکانی جاری ہے۔ باجوڑ میں خوارجی دہشتگردوں کیخلاف کارروائی میں تعاون کرتے ہوئے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کو عارضی طور پر ٹھہرانے کے لئے ، متاثرین کیلئے کیمپ قائم کئے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام نقل مکانی کرنے والے شہریوں کوضروری اخراجات کے لئے نقد رقوم بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
ذمہ دار صحافتی ذرائع کے مطابق کمشنر مالاکنڈ ڈویژن نے بتایا ہے کہ 85 سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں 6 ہزار607 افراد مقیم ہیں اور متاثرہ خاندانوں کی مجموعی تعداد 991 ہے: —
خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند میں دہشتگردوں کےخلاف کاررواِئیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ڈین تعیناتی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
ضلعی انتظامیہ نے متاثرین کیلئے مختلف سرکاری اسکولوں میں رہائش کی خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ ڈمہ ڈولہ، انعام خورو چینہ گئی اور چوہترہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے کیمپ قائم کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے متاثرین کو بسوں کے ذریعے سرکاری وپرائیویٹ اسکولوں اور باجوڑ اسپورٹس کمپلکس میں پہنچانے کے انتظامات کیے ہیں۔
صوبائی حکومت کے مطابق متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے فی خاندان کو 50،50 ہزار روپے دیے جائیں گے جبکہ ٹارگٹڈ کارروائی مکمل ہونے کے بعد متاثرہ ہر خاندان کو مزید 25، 25 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
راولپنڈی میں ڈینگی کی شدت میں اضافہ۔ 58 نئے کیسز کی تصدیق
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرفنانس اینڈ پلاننگ سعید اللہ جان نے کہا ہے کہ اب تک 20 ہزارسے زائد خاندان نقل مکانی کرچکے ہیں جس میں زیادہ تر لوگ اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں مقیم ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ اب تک85 سرکاری و پرائیویٹ اسکولوں اور اسپورٹس کمپلکس میں 1325 خاندانوں کیلئے کیمپ قائم کیا گیا ہے جہاں ان کو کھانے پینے کی اشیا سمیت دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب باجوڑ میں عارضی طور پر بےگھر ہونے والے خاندانوں کےاعداد و شمار بھی جاری کردیے گئے۔
رونالڈو نے 8 سال تک ڈیٹنگ کے بعد جورجینا سے منگنی کر لی
کمشنرمالاکنڈ ڈویژن کے مطابق 85 سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں 6 ہزار607 افراد مقیم ہیں اور متاثرہ خاندانوں کی مجموعی تعداد 991 ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں میں1497مرد، 1552 خواتین اور 3558 بچے شامل ہیں، سپورٹس اسٹیڈیم کیمپ میں 334 متاثرہ خاندان کے 2497 افراد موجود ہیں۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نقل مکانی کرنے والے متاثرہ خاندان
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔