آئی لو محمد (ص) کا پوسٹر لگانے اور مظاہرہ کرنے والے مسلمانوں کے خلاف کی گئی کارروائی کے بارے میں عمران مسعود نے کہا کہ بی جے پی صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت بھر میں "آئی لو محمد (ص)" مہم کو لے کر ماحول گرم ہے، جہاں مذہبی رہنما ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں وہیں سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ سہارنپور کے کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے "آئی لو محمد (ص)" مہم اور بریلی میں ہوئے مظاہرے پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے علماء کرام سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے پر روک لگائیں اور مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ سڑکوں پر نہ آئیں۔ عمران مسعود نے کہا کہ مساجد نماز کے لئے ہیں، نماز کے بعد جمع ہو کر ایسا ہنگامہ نہیں کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کے دل میں حضرت محمد مصطفٰی (ص) کی محبت نہ ہو، جو حضرت محمد مصطفٰی (ص) سے محبت نہیں کر سکتا وہ مسلمان کیسے ہو سکتا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ حضرت محمد مصطفٰی (ص) میری زندگی کا مقصد ہیں، ان کے اصولوں پر چلنا اور ان کے نظریات کو اپنانے لئے ہمیں سڑکوں پر آنے اور اس طرح کی حرکتوں میں ملوث ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ لکھنؤ میں ان پوسٹروں کے بارے میں جن پر "آئی لو محمد (ص)" کے بدلے "آئی لو بلڈوزر" لکھا ہے انہوں نے کہا کہ یہ کیسا ڈرامہ ہے۔ بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ آپ اس طرح کے کھیل کیوں کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے مزید کہا کہ اس سارے کھیل کے پیچھے کارفرما لوگوں کی نشاندہی ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت کی اس فضا سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔

آئی لو محمد (ص) کا پوسٹر لگانے اور مظاہرہ کرنے والے مسلمانوں کے خلاف کی گئی کارروائی کے بارے میں عمران مسعود نے کہا کہ بی جے پی صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے، وہ ہمیشہ مسلمانوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ کہنے میں نہ کوئی شرم آتی ہے اور نہ ہی جھجک، تاہم ہمیں ان چیزوں کو سمجھنا اور ان سے بچنا چاہیئے جو نفرت پیدا کر رہی ہیں، تاہم حضرت محمد مصطفٰی (ص) نے انسانیت کا پیغام دیا، اگر آپ ان کی سوانح حیات پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ کیا تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عمران مسعود نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف انہوں نے کہا کہ آئی لو محمد

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن