مافیاز عام آدمی کے منہ سے آخری نوالہ چھین لینا چاہتے ہیں،حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
پاک سعودی معاہدہ مسلم ممالک میں اتحاد کی طرف بڑھنے کا پہلا قدم ، ایران کوبھی شامل کیا جائے
وادی تیراہ میں لوگوں کو مارنے سے عوام میں اداروں کے خلاف مایوسی اور دوریاں پیدا ہوں گی، خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہاہے کہحکومت میں بیٹھے ہوئے مافیاز عام آدمی کے منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لینا چاہتے ہیں۔پہلے چینی اور اب آٹا بھی عوام کی پہنچ سے دور ہورہا ہے۔ہو شربا مہنگائی نے عوام کی پریشانیوں اور مشکلات میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ امریکہ بار بار جنگ بندی کی قرار داد کو ویٹو کرکے امن پسند عالمی برادری کی تضحیک اور اسرائیل کو غزہ میں قتل عام جاری رکھنے کا موقع دے رہا ہے۔امریکہ اسرائیل کی پشت پر ہے،بار بار جنگ بندی کو ویٹو کرنا اس کی واضح مثال ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی شوری کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں قومی و بین الاقوامی معاملات اور صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ملک بھر سے اراکین شوریٰ نے اجلاس میں شرکت کی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایک کے بعد دوسرے مسلمان ملک کو نشانہ بنایا گیا۔ قطر پر حملے کے بعد مسلمان ملکوں میں اتحاد کی جانب بڑھنے پر سوچ بیچار کا عمل شروع ہوا۔پاکستان سعودی معاہدہ مسلم ممالک میں اتحاد کی طرف بڑھنے کی جانب ایک قدم ہے۔دیگر اسلامی ممالک باالخصوص ایران اور ترکی کو بھی اس معاہدے میں شامل کیا جائے۔ وادی تیراہ جیسے واقعات سے غیر یقینی کی کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بے گناہ عورتوں اور بچوں کے مارے جانے سے عوام کے اندر غصہ اور نفرت بڑھ رہی ہے۔ ایسے واقعات سے اداروں پر عدم اعتماد بڑھے گا اور عوام سے دوریاں پیدا ہونگی۔ حافظ نعیم الرحمن نے افغانستان سے معاملات کو معمول پر لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحریک طالبان کا مسئلہ افغانستان کے تعاون سے حل کیا جائے۔دونوں ملک بات چیت سے اپنے مسائل پر امن طریقے حل کرسکتے ہیں۔ اسی میں دونوں کی بہتری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ظلم و جبر کا مسلط نظام بدل نہیں جاتا ملک میں تبدیلی نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی تبدیلی کیلئے ایک بڑی عوامی تحریک کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کو جماعت اسلامی پورا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے سائے میں اقتدار پر مسلط پارٹیوں کو عوام اچھی طرح جان اور پہچان چکے ہیں۔سال ہا سال کے اقتدار کے باوجود یہ پارٹیاں عوام کو ریلیف دینے اور لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ پاکستان میں غربت میں اضافہ کے متعلق عالمی بنک کی حالیہ رپورٹ چشم کشا ہے۔انہوں نے کہا کہ 21تا 23نومبر کومینار پاکستان لاہور میں ہونے والا اجتماع عام ان شاء اللہ تبدیلی کی بنیاد بنے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔