‘قرض اتارو ملک سنوارو’ ایک اسکیم تھی جسکا مقدر تاریخی ناکامی بنا، سینیٹر پلوشہ کی حکومت پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر پلوشہ خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب کے بعد زرعی ایمرجنسی میں کچھ نہیں، اس میں دی گئی ریلیف کوئی معنی نہیں رکھتی۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک مہینے کے بلوں کی معافی کی کوئی اہمیت نہیں، جب تک ڈوبے ہوئے گھرانے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوتے بل معاف ہونے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیے: نہ ملک سنورا نہ قرضہ اترا
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ ‘قرض اتارو ملک سنوارو’ بھی ایک اسکیم تھی، تاریخی ناکامی اس کا مقدر بنی، اس کی ناکامی کا قصہ پھر کبھی سنائیں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پنجاب کو فتح نہیں کیا گیا ہے، یہ صوبہ اگر ووٹ کی بنیاد پر ایک حکومت کے پاس آسکتا ہے وہ دوسرے کے پاس بھی جاسکتا ہے، جس طرح صوبائیت پھیلائی جا رہی ہے اور جس طرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے وہ اتحادی کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں، ہم جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔