خیبر پختونخوا، گندم اسکینڈل میں گرفتار افسران کی ضمانت کی درخواستیں خارج
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
ہائی کورٹ میں گندم اسکینڈل میں گرفتار اسٹوریج آفیسر ارشد اور سابقہ ملازم طلا محمد کی ضمانت کی درخواستوں کے معاملے میں عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، جس میں پشاور ہائی کورٹ نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں گندم اسکینڈل میں گرفتار افسران کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردی گئیں۔ ہائی کورٹ میں گندم اسکینڈل میں گرفتار اسٹوریج آفیسر ارشد اور سابقہ ملازم طلا محمد کی ضمانت کی درخواستوں کے معاملے میں عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، جس میں پشاور ہائی کورٹ نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد انعام یوسفزئی کے مطابق ملزم ارشد اضاخیل میں اسٹوریج آفیسر ہے اور طلا محمد سابقہ ملازم ہے۔ دونوں ملزمان گندم اسکینڈل میں ملوث ہیں۔ اضاخیل اسٹوریج سے 1730 میٹرک ٹن (3300 گندم کی بوریاں) غائب کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ اینٹی کرپشن خیبر پختونخوا نے اسکینڈل کی تحقیقات کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا اور ان کو حراست میں لیا۔ ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں اینٹی کرپشن کورٹ نے بھی خارج کردی ہیں۔ بعد ازاں پشاور ہائیکورٹ نے بھی ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں کی ضمانت کی درخواستیں خارج گندم اسکینڈل میں گرفتار ہائی کورٹ کورٹ نے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔