اسلام آباد — سپریم کورٹ آف پاکستان نے 12 اگست کو سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی ضمانت سے متعلق اپیلوں کی سماعت طے کر دی ہے۔ یہ اپیلیں لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں جس میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے مقدمات میں عمران خان کو ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہیں، منگل کے روز اس کیس کو سنیں گے۔ اس سے پہلے سماعت اس لیے ملتوی کر دی گئی تھی کیونکہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں دستیاب نہیں تھے۔

اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 24 جون کو 9 مئی کے واقعات سے جڑے آٹھ مقدمات میں ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان مقدمات میں لبرٹی چوک پر عسکری ٹاور پر حملہ، ماڈل ٹاؤن میں ن لیگ کے دفاتر پر حملہ، شادمان تھانے پر حملہ، کور کمانڈر ہاؤس کے قریب پولیس گاڑیاں جلانا اور شیرپاؤ پل پر تشدد کے الزامات شامل ہیں۔

عمران خان نے مؤقف اپنایا ہے کہ ان پر تشدد کی منصوبہ بندی اور اس میں سہولت کاری کا الزام اس وقت لگایا گیا جب وہ نیب کی حراست میں تھے، اس لیے ان کا ملوث ہونا ممکن ہی نہیں۔ اپیل میں یاد دہانی کرائی گئی کہ سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اگر کوئی ملزم جائے وقوعہ پر موجود نہ ہو تو اس کا کیس کمزور ہوتا ہے۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی انتقام کا حصہ ہیں، جن کا مقصد عمران خان کو جیل میں رکھنا اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ استغاثہ کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جو انہیں واقعات سے جوڑ سکے۔ مزید کہا گیا کہ پولیس نے تاخیر سے متنازع بیانات شامل کیے، جن کی کوئی معقول وضاحت نہیں دی گئی، اور ہر بار استغاثہ نے اپنا مؤقف اس وقت بدلا جب پچھلا بیانیہ عدالت میں کمزور پڑ گیا۔

عمران خان کی قانونی ٹیم کے مطابق یہ تضادات اور شواہد میں موجود خامیاں اس کیس کو مزید تفتیش کا مستحق بناتی ہیں اور قانون کی رو سے ضمانت دینے کا جواز فراہم کرتی ہیں۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم