بھارتی پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کرنیوالے میجر معیز شہید کی نمازِ جنازہ ادا، فیلڈ مارشل کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک) جنوبی وزیرستان میں خوارج کے خلاف آپریشن کے دوران شہید ہونے والے میجر معیز کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق میجر سید معیز عباس شاہ شہید کی نمازجنازہ چکلالہ گیریژن راولپنڈی میں ادا کی گئی جس میں فیلڈمارشل عاصم منیر، وزیرداخلہ اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ میجر سید معیز عباس نے وطن کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ دیا، اُن کی یہ قربانی بہادری اور حب الوطنی کی اعلیٰ روایتوں کی علمبردار ہے، قوم ان کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتی ہے، ہم اپنے شہدا کےمقروض ہیں، شہدا کا لہو ہمارے وطن کی بنیاد ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شہید کا جسدِ خاکی ان کے آبائی علاقے روانہ کر دیا گیا ہے جہاں انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔
یاد رہےکہ 27 فروری 2019کو پاکستان نےلائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والے 2 بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا اور ایک پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو زندہ گرفتار کرلیا تھا۔
پاکستانی حدود میں گرنےکے بعد پاکستانی شہری ابھینندن کو تشدد کا نشانہ بنارہے تھےکہ میجر معیز اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچے اور ابھینندن کو پاکستانی شہریوں سے بچایا اور گرفتار کرلیا۔
میجر معیز شہید نے ابھینندن کی گرفتاری سے متعلق کیا بتایا تھا؟
واقعےکا ایک سال مکمل ہونے کے بعد میجر معیز نے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر کو بتایا تھا کہ ہماری کوشش تھی کہ ہم بھارتی پائلٹ کو زندہ گرفتار کریں، جب ہم بھارتی پائلٹ کے قریب پہنچے تو وہاں پاکستانی شہریوں نے ابھینندن کو گھیرا ہوا تھا۔
میجر معیز نے بتایا کہ ابھینندن نے ہمارا یونیفارم دیکھا تو گرفتاری پیش کردی اور کہا کہ مجھے بچائیں، جس کے بعد ہم نے اسے طبی امداد دی اور اسے گرفتار کرکے وہاں سے لے گئے۔
بعد ازاں حکومت پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت گرفتار بھارتی پائلٹ کو رہا کرتے ہوئے اسے واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالےکر دیا۔
پاکستان اور یو اے ای کے درمیان سرکاری و سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بھارتی پائلٹ ابھینندن کو
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔