اقوام متحدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2025ء) پاکستان نے ایران کے جوہری مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لئے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیا ہے ۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری مسئلے کو پرامن طریقوں سے حل کرنے کی کوششوں کے لئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا ۔

منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کے جوہری پروگرام کے حوالے سے 1015 کی قرارداد جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے ) کی توثیق کے نفاذ سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے جے سی پی او اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ سفارتکاری اور مذاکرات کی بحالی تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں جس پر 2015 میں ایران اور امریکا سمیت کئی عالمی طاقتوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد دستخط ہوئے تھے۔

(جاری ہے)

اپنے ریمارکس میں پاکستانی مندوب نے کہاکہ آئی اے ای اے ، اقوام متحدہ کی ایجنسی جو رکن ممالک کی متعلقہ جوہری حفاظتی ذمہ داریوں کی تعمیل کی توثیق کے لئے ذمہ دار ہے، کو اس قانونی کام کو پورا کرنے کے لئے فعال ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آئی اے ای اے کے ذریعے تصدیقی سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری رہنی چاہئیں۔پاکستانی سفیر نے کہاکہ سلامتی کو نسل آئی اے ای اے اور ایران کے ساتھ ساتھ دیگر فریقین کے درمیان موجودہ مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے کافی وقت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ پیش رفت نے ایک بار پھرسنگین خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو ظاہر کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مسائل کو فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی قیمت بہت واضح ہے اور خطے سمیت پوری دنیاکو اس طرح کی خطرناک مہم جوئی اور بڑھتی ہو ئے خطرناک کشیدگی کا حصہ نہیں بن سکتی ہے۔

حالیہ پیش رفت کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور تنازعات کو حل کرنے کے لئے دھمکی یا طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ آئی اے ای اے کے محفوظ ایٹمی تنصیبات پر حملوں کو مسترد کیا جانا چاہیے ، آئی اے ای اے کے ذریعے مذاکرات اور تصدیقی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دینے کے لئے تنازعات کا مستقل خاتمہ اور مستقل جنگ بندی کی جانی چاہیے۔

تمام فریقین کو باہمی تعاون کے ساتھ موجودہ مسائل کو سنجیدگی اور ایمانداری سے حل کرنے کے لئے سفارتی مصروفیات کی تجدید کرنی چاہیے ۔ آخر میں سفیر عاصم افتخار نے کونسل کو بتایا کہ پاکستان نے روس اور چین کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کے پرامن حل کی تلاش میں کونسل کی قرارداد کا مسودہ تجویز کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپانسرز قرارداد کا ایک تازہ ترین ورژن تجویز کریں گے جس میں جنگ بندی کی پائیداری اور کونسل کی نگرانی کو یقینی بنانے کے لئے تازہ ترین پیش رفت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایران کے جوہری حل کرنے کے لئے ا ئی اے ای اے اقوام متحدہ انہوں نے پیش رفت

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟