پاک بھارت جنگ کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے درمیان پہلی ملاقات کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
پاک بھارت جنگ کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے درمیان پہلی ملاقات کا امکان WhatsAppFacebookTwitter 0 25 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ(سب نیوز) پاک بھارت جنگ کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کیدرمیان پہلی ملاقات کا امکان ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق پاکستان اوربھارت کے وزرائیدفاع کی ممکنہ ملاقات چین میں بدھ سے شروع ہونے والی ایس سی اوکے 2 روزہ اجلاس کے دوران ہونے کا امکان ہے۔
ایس سی او میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف کریں گے جو چین پہنچ چکے ہیں جب کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی اعلی سطح وفد کے ہمراہ اجلاس میں شریک ہوں گے جہاں راج ناتھ سنگھ چین، روس اور دیگر ممالک کے وزرائے دفاع سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
دوسری جانب ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیردفاع خواجہ آصف اور بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔ترک میڈیا کے مطابق ایس سی او اجلاس میں علاقائی و عالمی سلامتی، انسداد دہشتگردی تعاون اور عسکری روابط پر غور ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان ایڈمنسٹریٹو گروپ کے بیوروکریٹس کو ترقیاں مل گئیں ، کون کونسے آفیسران کو پروموشنز ملیں، نوٹیفکشن سب نیوز پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو گروپ کے بیوروکریٹس کو ترقیاں مل گئیں ، کون کونسے آفیسران کو پروموشنز ملیں، نوٹیفکشن سب نیوز پر ترک صدر کی ٹرمپ سے ملاقات ، امریکا کے ساتھ دو طرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کا اعلان قائم مقام چیئرمین سی ڈی اے طلعت محمود کی زیر صدارت اجلاس ، صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے سلسلہ میں اٹھائے گئے... بانی پی ٹی آئی کو پارٹی اور بہن نے مائنس کردیا، عظمی بخاری علی امین گنڈا پور کی بانی سے ملاقات کی درخواست، جسٹس منصور کی کیس سننے سے معذرت پاکستان اور یو اے ای کے درمیان سرکاری و سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم ، معاہدے پر دستخط
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ممالک کے وزرائے دفاع کے درمیان کا امکان
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔