data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری مراکز پر امریکی فضائی حملوں کو دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ہونے والے ایٹمی حملوں سے تشبیہ دی ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، دی ہیگ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے کھربوں ڈالرز خرچ کر کے ایران پر حملے کیے، اور اب نیٹو کے دیگر ممالک کو بھی دفاعی اخراجات میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو اسرائیل کے ساتھ جنگ اب تک جاری رہتی۔ ان کے مطابق، ماضی کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں لیکن امریکی اقدام کامیاب رہا۔

ٹرمپ نے کہا: “میں ہیروشیما یا ناگاساکی کی مثال دینا نہیں چاہتا، لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکی حملے نے ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کا خاتمہ کیا۔”

ان بیانات پر سوشل میڈیا اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس تشبیہ کو غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے ہوئے یہ بھی کہا: “مجھے نہیں لگتا کہ اب ان دونوں ممالک کے درمیان کبھی جنگ ہوگی۔ ایران کی جوہری صلاحیت ختم کر دی گئی ہے۔”

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے ایران

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان