امریکی ایوانِ نمائندگان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی ایک قرارداد کو کثرتِ رائے سے مسترد کر دیا گیا، جس میں 128 ڈیموکریٹس نے بھی ریپبلکنز کا ساتھ دیا۔ پہلے مرحلے پر سوال یہ تھا کہ آیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذہ کی کارروائی ہونی چاہیے؟ 344 کے مقابلے میں صرف 79 ارکان ’ہاں‘ مواخذے کے حق میں سامنے آئے، یوں مواخذے کی اس قرار داد کو یہاں پر ہی ختم کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ یہ قرارداد ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ایل گرین کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جنہوں نے ٹرمپ کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کو  غیر قانونی اعلانِ جنگ قرار دیتے ہوئے مواخذے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے امریکا میں احتجاج کا دائرہ بڑھ گیا، مظاہروں کو سختی سے کچلا جائیگا، صدر ٹرمپ

ایل گرین کا کہنا تھا ’میں اس وقت تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتا جب ایک صدر طاقت کا غلط استعمال کر کے جمہوریت کو آمریت میں بدلنے کی کوشش کرے۔‘

دلچسپ امر یہ ہے کہ  قرارداد کو ناکام بنانے والوں میں ڈیموکریٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی شامل تھی، جن میں ہیکیم جیفریز (ہاؤس مائنارٹی لیڈر)، کیتھرین کلارک  مائنارٹی وِپ)، پیٹ اگوئیلار (کاکس چیئرمین) شامل ہیں۔

قرارداد کی حمایت کرنے والے 79 ڈیموکریٹس میں سے بیشتر پارٹی کے ترقی پسند دھڑے سے تعلق رکھتے تھے، جن میں الگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز بھی شامل ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایران پر حملہ کانگریس کی منظوری کے بغیر کیا گیا، جو آئینی طور پر غلط ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدر ٹرمپ سے خوفزدہ امریکی، یورپ میں زندگی گزارنے کے خواہاں

ٹرمپ کا طنزیہ ردِعمل

اس موقع پر سابق صدر ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر ترقی پسندوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا ’یہ لوگ کانگریس کی تاریخ کے سب سے کم مقبول گروہ ہیں، مواخذہ کرنے کی کوشش کرو، میرا دن بنا دو!‘

پارٹی میں دراڑ؟

128 ڈیموکریٹس کے مواخذے  کے واضح طور پر خلاف  ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹ پارٹی اندرونی طور پر منقسم ہے۔ اس کی قیادت مزید سیاسی محاذ آرائی سے گریز چاہتی ہے تاہم  ترقی پسند ارکان ٹرمپ کے خلاف سخت موقف اپنانے پر زور دے رہے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

مواخذے کی مخالفت کرنے والے ڈیموکریٹ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے وار پاورز ریزولوشن جیسے قانونی راستوں پر توجہ دینا چاہتے ہیں، تاکہ کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگی کارروائیوں پر حکومت سے جواب طلب کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران اسرائیل جنبگ ٹرمپ کا مواخذہ ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹ پارٹی ری پبلیکنز پارٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران اسرائیل جنبگ ٹرمپ کا مواخذہ ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلیکنز پارٹی ٹرمپ کے خلاف

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار