Jasarat News:
2026-07-24@05:41:37 GMT

مسئلہ کشمیر پر صدر ٹرمپ کی ثالثی!

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

متین فکری
جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے حالیہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادی کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے ہٹ کر ثالثی کی جو بھی کوشش کی جائے گی وہ کشمیری عوام اور خود پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہوگی۔ مجلس شوریٰ کو یہ قرار داد منظور کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جھڑپ کے بعد کشمیر کا مسئلہ خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اُٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کو سیز فائر کے بعد مذاکرات کی میز پر لائیں گے اور کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کرائیں گے۔ ان کی ثالثی کس نوعیت کیا ہوگی، ابھی واضح نہیں ہے۔ ایران اور اسرائیل کی موجودہ جنگ نے حالات کا رُخ ہی بدل دیا ہے۔ اب نہیں کہا جاسکتا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کب ہوں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان پانی، دہشت گردی اور کشمیر سمیت دیرینہ تنازعات طے کرنے میں کیا پیش رفت ممکن ہوسکے گی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں کو آج نہیں تو کل مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا۔

پاکستانی قیادت کے نزدیک بھارت سے تین تصفیہ طلب مسائل کا حل ناگزیر ہے، ان کے بغیر نہ خطے میں امن قائم ہوسکتا ہے اور نہ دونوں ملک چین سے رہ سکتے ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ کشمیرکا ہے، اگرچہ بھارت نے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کو یکطرفہ طور پر بھارتی یونین میں ضم کرکے اپنی دانست میں مسئلہ کشمیر کو مستقل طور پر حل کرلیا تھا لیکن زمینی حقائق اس کی تصدیق نہیں کرتے، نہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھارت کے یکطرفہ غیر قانونی اقدام کے مقابلے میں حق خودارادیت پر مبنی اپنی قرار دادیں واپس لی ہیں نہ کسی پہلو سے بھی بھارتی کارروائی کو جائز قرار دیا ہے۔ یعنی بھارت کی ہٹ دھرمی کے باوجود مسئلہ کشمیر پر عالمی ادارے کا موقف وہی ہے جو آج سے ستر سال پہلے تھا اور کشمیری عوام کو حق خود ارادی دے کر ہی مسئلہ کشمیر کو پائیدار بنیادوں پر حل کیا جاسکتا ہے۔ بھارت اگرچہ یکطرفہ طور پر مسلم آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے اس نے لاکھوں ہندوئوں کو ریاست کشمیر کو ڈومیسائل دے دیا ہے، وہ وہاں جائداد خرید سکتے ہیں اور ریاستی باشندے کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ان تمام اقدامات کے باوجود بھارت کو یقین نہیں ہے کہ اگر آج آزادانہ استصواب رائے کرلیا جائے تو اس کا نتیجہ اس کے حق میں برآمد ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس طرف آتا ہی نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ازخود مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرانے کی جو پیش کش کی ہے اس کے بارے میں ماہرین امور کشمیر کی رائے یہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایک کاروباری آدمی ہیں وہ مسئلہ کشمیر کو بھی ایک کاروباری تنازع سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ زمین کا جھگڑا ہے، بھارت نے کشمیر کے زیادہ حصے پر ناجائز قبضہ کرلیا ہے اب ثالثی کے ذریعے کشمیر کے کچھ حصے پر سے اسے اپنا قبضہ چھوڑنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے، حالانکہ تنازع کشمیر پر ناجائز قبضے کا نہیں، کشمیری عوام کے حق خود ارادی کا ہے جس سے انہیں تقسیم ہندوستان کے وقت سے محروم رکھا گیا ہے۔ ماہرین امور کشمیر کی رائے کے مطابق پاکستانی قیادت کو چاہیے کہ وہ صدر ٹرمپ کی ثالثی قبول کرنے سے معذرت کرلیں کہ اس سے مسئلہ کشمیر کو فائدہ پہنچنے کے بجائے اُلٹا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ رہا بھارت تو وہ کسی قسم کی ثالثی کے حق میں ہی نہیں ہے۔ پاکستان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے جارحانہ سفارتی کوششیں بروئے کار لائے اور بھارت کو عالمی سطح پر تنہا کردے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر پر مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی ثالثی نہیں ہے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم