Express News:
2026-06-03@02:40:39 GMT

سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

سابق وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی حکومتوں کے بعد 2008 سے شروع ہونے والی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت پہلی بار مقررہ مدت پوری کرکے 2013 میں ختم ہو گئی تھی مگر سندھ میں 2008 میں پیپلز پارٹی کی جو حکومت قائم ہوئی تھی، وہ مسلسل قائم ہوتی آ رہی ہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی تسلسل سے واحد حکومت ہے جو اب سترہویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔

1972 ممتاز بھٹو کی وزارت اعلیٰ کے تحت سندھ میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت قائم ہوئی تھی مگر سندھ میں ہونے والے پہلے لسانی ہنگاموں کے بعد بھٹو صاحب نے ممتاز بھٹو کو ہٹا کر شریف النفس غلام مصطفیٰ جتوئی کو سندھ کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا جو سندھ کا سنہرا دور تھا جس میں کبھی لسانی ہنگامہ ہوا نہ بدامنی تھی اور نہ ہی کرپشن کا ذکر ہوتا تھا اور سندھ میں ترقی بھی ہوئی تھی۔

1977 کے مارشل لا کے بعد جام صادق، مظفر شاہ، علی محمد مہر، لیاقت جتوئی، ارباب رحیم، آفتاب شعبان میرانی، عبداللہ شاہ، قائم علی شاہ کے بعد بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی جس کے بعد سندھ میں پیپلز پارٹی کی 17 سال سے مسلسل حکومت ہے جس میں طویل دور قائم علی شاہ کا تھا جس کے بعد بلاول بھٹو زرداری کے پسندیدہ مراد علی شاہ مسلسل وزیر اعلیٰ سندھ چلے آ رہے ہیں جو سابق وزیر اعلیٰ عبداللہ شاہ کے صاحبزادے ہیں جن کے دور میں سندھ میں 1990 کے بعد کوئی لسانی فساد نہیں ہوا ۔ 1989 میں بے نظیر دور میں سندھ میں آخری لسانی فسادات ہوئے تھے جس وقت آفتاب شعبان میرانی وزیر اعلیٰ تھے اور ان کا اپنا آبائی شہر شکارپور بھی لسانی فسادات کی زد میں آگیا تھا مگر اس وقت بھی سندھ میں کرپشن کی شکایات عام نہیں تھیں۔

1990 میں بے نظیر بھٹو حکومت کی برطرفی کے بعد وزیر اعظم نواز شریف بنے تھے اور سندھ میں جام صادق کے بعد غوث علی شاہ وزیر اعلیٰ سندھ بنائے گئے تھے اور سندھ میں نہ لسانی فسادات ہوئے اور نہ ہی کرپشن کی زیادہ شکایات تھیں اور 1977 کے بعد 1988 تک سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بھی نہیں تھی اور 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کا جنرل ضیا الحق کے باعث پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ کیا تھا اور 1988 میں سندھ میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی اور 11 سال بعد سندھ میں پی پی نے حکومت بنائی تھی جو 1990 تک رہی اور دو سالوں میں قائم علی شاہ اور آفتاب میرانی وزیر اعلیٰ رہے ۔

2008 سے 2025 تک سندھ میں آصف زرداری پر کسی قسم کی کرپشن کا الزام نہیں لگا البتہ صوبائی حکومت کے حوالے سے مبینہ کرپشن کی باتیں عام ہیں لیکن ایسا ہر دور میں ہوتا ہے۔ پی پی مخالف تمام جماعتیں پی پی کی سندھ میں قائم تمام حکومتوں پر کرپشن کے سنگین الزامات مسلسل لگا تی چلی آرہی ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ،وزیروں اور پی پی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ صحت کے سلسلے میں دیگر صوبوں سے زیادہ ترقی ہوئی ہے اور سندھ کے بڑے اور جدید علاج کے اسپتالوں میں دیگر صوبوں کے لوگ آ کر شفا حاصل کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت خود پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کو سیاسی قرار دیتی ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کا حالیہ اقتدار 17ویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔یہ ایک ریکارڈ ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی سندھ کے معاملے میں خاصے حساس ہیں اور وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ مسلسل رابطے میں بھی رہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا دعویٰ ہے کہ ان کے دورحکومت میں سندھ میں بہت زیادہ ترقیاتی کام ہوئے ہیں ‘البتہ اپوزیشن ان کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی ۔ اپوزیشن مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ سندھ میں ہر سطح پر کرپشن ہو رہی ہے ‘اپوزیشن کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی کی سند ھ حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔ سندھ ہی نہیں بلکہ کراچی میں بھی بڑی مدت کے بعد پیپلز پارٹی کو بلدیاتی حکومت ملی ہے۔

کراچی کے میئر بھی اپنے طور پر بڑی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ شہر کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنا لیں لیکن ابھی تک کوئی آئیڈیل کام ہوتا ہوا نظر نہیں آیا ۔ کراچی شہر کے مسائل بہت زیادہ ہیں اور ان مسائل کو حل کرنا عام کام نہیں ہے۔ اس کے لیے بہت زیادہ پیسے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کی بیوروکریسی اور ملازمین سے کا م لینا بھی بڑا جان جوکھوں کا کام ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندھ میں پیپلز پارٹی کی اور سندھ میں سندھ میں پی وزیر اعلی سندھ کے علی شاہ کے بعد

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا