ضمنی انتخاب کے نتائج نے سیندور پو نچھ دیا!
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
ڈاکٹر سلیم خان
ضمنی انتخاب کے کمبھ میلے میں آپریشن سیندور ڈوب گیا۔ پانچ میں سے چار شردھالو ڈوب مرے ۔ ریزرو کٹیگری کے دلتوں کی بدولت ایک کی جان بچی یعنی اگر ملک کا پسماندہ طبقہ بھی زعفرانی جھانسے سے نکل جائے تو کمل مرجھا جائے گا۔پانچ میں دو مسلم امیدواروں کی کامیابی ‘آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا’ کی مصداق ہے ۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے ضمنی انتخاب سے قبل ایک پانچ روزہ غیر ملکی دورہ طے کردیا تاکہ ہر روز ان کا ‘ہنستا ہوا نوروانی چہرہ’ ذرائع ابلاغ میں رونق افروز رہے ۔ سائپرس سے کینیڈا اورکروشیا کے راستے 19 جون کو مودی جی اس توقع سے لوٹے کہ ملک کے رائے دہندگان مانگ میں سیندور بھر کے ان کا ا ستقبال کریں گے اور پانچ میں پانچ نہ سہی تو کم از کم تین میں کامیابی مل ہی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 4 ریاستوں پنجاب، گجرات، مغربی بنگال اور کیرالہ کی 5 اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں ان کی پارٹی گجرات کا ‘وساودر’ بھی ہار گئی ۔ کس نے نہیں سوچا تھا آپریشن سیندور اتنی بری طرح ناکام ہوگا ۔
ضمنی انتخابات کے نتائج میں سب سے بڑی خوشخبری اس عام آدمی پارٹی کے لیے آئی جس پر دہلی میں شکست کے بعد فاتحہ پڑھاجاچکا تھا ۔ پنجاب کے علاوہ گجرات کی کامیابی ‘گھر میں گھس کے مارا’جیسی ہے گوہا جھاڑو نے کمل سے دہلی کی ہار کا ضمنی انتقام لے لیا۔ ملک بھر میں بی جے پی کے لیے یہ نتائج مایوس کن رہے ۔ اس بارحوصلہ اتنا بلند تھا کہ ایک بھی حلیف کو موقع دیئے بغیر اپنے امیدوار کھڑے کیے گئے ۔ گجرات کے کڈی میں اگر دلت رائے دہندگوں نے کمل نہ کھلایا ہوتا تو بی جے پی کا سپڑا صاف ہوجاتا ۔ کڈی سیٹ پر بی جے پی امیدوار راجندر کمار چاؤڈا نے تقریباً ایک لاکھ ووٹ حاصل کرکے کانگریس کے رمیش بھائی چاؤڈا کو تقریباً 40 ہزار ووٹوں سے شکست دے دی۔ یہاں پر عآپ کے جگدیش بھائی چاؤڈا کو 3090 ووٹ پر اکتفاء کرنا پڑا ۔ اس طرح دلتوں کی مہربانی سے ا کمل کھل گیا ۔کڈی چونکہ بی جے پی کا گڑھ ہے اس لیے بی جے پی نے ہیٹ ٹرک کرلی ۔ بی جے پی کااصل امتحان وساودَر میں تھا کیونکہ وہ سابق وزیر اعلیٰ کیشو بھائی پٹیل کی کرم بھومی تھی ۔
1984 میں جنتا پارٹی کا چولا اوڑھ کر زعفرانیوں نے اس پر قبضہ کیا اور 2012 تک جمے رہے ۔ کیشو بھائی کی موت کے بعد 2014 کے ضمنی انتخاب میں کانگریس کے امیدوار ہرشد کمار رابڑیا نے بازی مارلی پھر آگے چل کر 2022کے اندر عام آدمی پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوگیا ۔ بی جے پی نے انتخابی ناکامی کے بعد عآپ کے بھوپیندر بھایانی کو کمل پکڑا دیا ۔ کانگریس کے ہرشد رابڑیا نے مقدمہ کردیا اس لیے ضمنی انتخابات ملتوی ہوتے رہے یہاں تک کہ رابڑیا کو بھی جھانسے میں لے کر بی جے پی نے مقدمہ واپس کروادیا۔ اتنی ساری مشقت کے بعداس امید کے ساتھ کروایا گیا کہ سارے مخالفین کو خرید ے جاچکے ہیں اس لیے کامیابی یقینی ہے مگر عآپ امیدوار گوپال اٹالیا نے تقریباً 76 ہزار ووٹ حاصل کرکے بی جے پی امیدوار کریت پٹیل کو تقریباً 17.
عام آدمی پارٹی کو دوسری بڑی کامیابی پنجاب کی لدھیانہ ویسٹ اسمبلی سیٹ پر ملی ۔ وہاں عآپ امیدوار سنجیو اروڑا شروع میں تو کانگریس امیدوار بھارت بھوشن آشو سے پیچھے چل رہے تھے ، لیکن جیسے جیسے ووٹوں کی گنتی آگے بڑھی تو پانسہ پلٹ گیا اور بالآخر کانگریس امیدوار 10637 ووٹوں سے ہار گیا۔ لدھیانہ میں ہندووں کی خاصی بڑی آبادی کے باوجود بی جے پی امیدوار جیون گپتا کو 20323 ووٹ پر اکتفاء کرنا پڑا۔ تیسرے مقام پر بی جے پی اگر سابقہ حلیف شرومنی اکالی دل امیدوار کے ساتھ ہوتی تو اس کی ضمانت بھی ضبط نہیں ہوتی کمل بھی کھل جاتا۔ کیونکہ اس نے آٹھ ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے لیکن اس راستے میں دو مسائل ہیں۔ ایک تو کسان مخالف شبیہ کے سبب اکالی دل اس کے قریب نہیں پھٹکتی اور دوسرے غرور و تکبرکی وجہ سے وہ بی جے پی اپنے حلیفوں کو حقیر فقیر سمجھنے لگی ہے ۔
مغربی بنگال کی کالی گنج سیٹ پر ترنمول کانگریس کا دبدبہ برقرار رہا۔ 2011میں پہلی بار وہاں ٹی ایم سی نے ناصر الدین احمد کے ذریعہ وہاں اپنا جھنڈا گاڑا۔ اس کے بعد 2016 میں کانگریس کے امیدوار حسن الزماں شیخ سے ناصر ہار گئے مگر 2021میں پھر سے ناصرا الدین نے اپنی کھوئی ہوئی میراث پر قبضہ کرلیا۔ ان کی وفات کے بعد ترنمول کانگریس نے ناصر الدین کی بیٹی الیفہ احمد کو ٹکٹ دیا ۔ یہ حکمتِ عملی کامیاب رہی اور اس بار انہوں نے 50 ہزار سے زائد ووٹوں سے فتح کا پرچم لہرایا ۔ بی جے پی امیدوار آشیش گھوش اپنی تمام تر فرقہ وارانہ پروپگنڈا کے باوجود شکست فاش سے دوچار ہوگیا ۔ کانگریس نے الیفہ کے مقابلے ھسن الزمان شیخ کے بیٹے کابل الدین شیخ کو میدان میں اتارا مگر وہ تیسرے مقام پر رہے ۔ اس طرح ممتا بنرجی نے ایک بار پھر اپنا دَم دکھاتے ہوئے کالی گنج سیٹ پر بی جے پی کی دال گلنے نہیں دی اور اسے احساس دلا دیا کہ اگلے سال ہونے والے انتخابات میں جیت حاصل کرنا اس کے لیے آسان نہیں ہوگا ۔ مسلمان تو کم اکم اس کو جیت کا مزہ چکھنے نہیں دیں گے ۔
کانگریس کے لیے اچھی خبرکیرالہ سے آئی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی کی حالت کیرالہ میں اچھی نہیں ہے مگر کانگریس کو بھی نیلامبور سیٹ پر کامیابی درج کرانے کی خاطر طویل عرصہ کرنا پڑا اور بالآخر2016و 2021کی شکست کے بعد پرینکا گاندھی نے وہاں کامیابی کا پرچم لہرایا دیا ۔ اگلے سال کیرالہ کے انتخابات ہونے والے ہیں اس لیے یہ کامیابی کانگریس کے لیے ایک نیک فال ہے ۔ نیلامبور اسمبلی سیٹ پر انور نامی آزاد امیدواراشتراکیوں کی مدد سے دوبار کامیاب ہوا مگر چند ماہ قبل اس نے ایل ڈی ایف پر الزام لگایا کہ وہ آر ایس ایس کی مدد کررہی ہے ۔ مسلم علاقوں میں وہ مافیا بنا رہی ہے اور انہیں بدنام کررہی ۔ یہ کہہ کر انور نے استعفیٰ دیا تو وہاں انتخاب کروانا پٹا ۔ یہ حلقہ ٔ انتخاب پرینکا گاندھی کے وائناڈ میں آتا ہے ۔ انہوں نے خاص دلچسپی لی اور اس سیٹ کو جیتنے کے لیے کانگریس نے کافی محنت کرنی پڑی ۔ اس کے نتیجے میں کانگریس امیدوار آریہ دان شوکت کو 11 ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیابی مل گئی۔
آریہ دان شوکت کو 77737 ووٹ حاصل ہوئے ہیں، جبکہ سی پی آئی (ایم) امیدوار ایم سواراج کو 66660 ووٹ ملے ۔ بی جے پی عیسائی امیدوار کو میدان میں اتار کر ایک جوا کھیلا مگر ایڈووکیٹ موہن جارج محض 8648 ووٹ حاصل کرکے چوتھے مقام پرآئے ۔ اس طرح کیرالہ کے اندر سنگھ پریوار کے بڑھتے رسوخ کا جو ہواّ کھڑا کیا گیا تھا اس کی پول کھل گئی۔ اس حلقۂ انتخاب میں ایل ڈی ایف کی بی جے پی کے ساتھ کھل کر سامنے آگئی۔ جماعت اسلامی ہند کی ویلفیئر پارٹی نے شوکت کی حمایت کی تو اشتراکیوں نے جماعت کو نہ صرف داعش بلکہ پہلگام کے دہشت گردوں سے جوڑ دیا۔ اس طرح اقتدار کی خاطر اشتراکی وہی غلطی کررہے ہیں جو مغربی بنگال میں ہوئی تھی۔ ان لوگوں نے کانگریس کو نقصان پہنچانے کے لیے بی جے پی کی مدد کی اور بالآخر وہ طاقتور ہوگئی اور یہ خود کمزور ہوگئے ۔ اقتدار کے ہاتھ سے نکلنے کا خوف انسان کو اپنی غلطیوں سے سبق بھی نہیں لینے دیتا ۔یہ لوگ بھوک جاتے ہیں کہ کانگریس کو ہرا کر دوبارہ اقتدار میں آجانا ہے مگر بی جے پی اگر حکومت قائم کرلے تو واپسی مشکل ہوجاتی ہے ۔
پہلگام کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والی ایل ڈ ی ایف کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مشکوک معاملہ ہے ۔ عوام کی ایک بڑی تعداد اس کو پلوامہ 2 مانتی ہے جہاں اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز آر ڈی ایکس کا پہنچنا ہنوز معمہ بنا ہوا ہے ؟اس سوال کا جواب سرکار سمیت کسی کے پاس نہیں ہے کہ وہ کہاں سے آیا تھا؟ پہلگام کی بابت بھی سرکار یہ بتانے سے قاصر ہے کہ حملہ آور کہاں سے آئے اور کیسے غائب ہوگئے ؟ انہیں سوالات نے سارے معاملے کو شکوک و شبہات کے دائرے میں ڈال دیا ہے لیکن پلوامہ کے بعد سرجیکل اسٹرئیک نہایت کامیاب رہا۔ بی جے پی نے 2019 کے قومی انتخابات میں اسی کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کی حالانکہ اب اسے بھی لوگ سرجیکل کے بجائے فرضیکل اسٹرائیک کہنے لگے ہیں ۔ آپریشن سیندور کے بعد لاہور ، اسلام آباد اور کراچی میں ترنگا لہرانے والی فرضی جنگ بھی ٹیلی ویژن کے پردے پر لڑی گئی اور اس کے بعد ضمنی انتخابات میں آپریشن سیندور کے اثرات کو جانچا گیا تو اس کا رنگ پھیکا نکلا ۔ پانچ میں سے چار مقامات پر بی جے پی کی شکست معمولی نہیں ہے ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے سیندور کا رنگ خون سے نکل کر آنسووں میں بہہ گیا۔ ان نتائج کے بعد گجرات کے اندر بی جے پی خون کے آنسو رو رہی ہے ۔ پاکستان سے سٹے گجرات میں بھی اگر یہ رنگ نہیں چڑھا تو بہار میں کیا چڑھے گا؟ بی جے پی کو اب بہار اسمبلی انتخاب کے لیے کوئی نیا شوشا چھوڑنا پڑے گا ورنہ اس کی مانگ میں سیندور نہیں بھرے گا اور یشو وھا بین کی طرح وہ سونی کی سونی رہ جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بی جے پی امیدوار ضمنی انتخابات انتخابات میں بی جے پی نے بی جے پی کی کانگریس کے پر بی جے پی پانچ میں ووٹ حاصل ووٹوں سے کے لیے کے بعد اور اس اس لیے سیٹ پر
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی