Juraat:
2026-06-03@07:37:05 GMT

ضمنی انتخاب کے نتائج نے سیندور پو نچھ دیا!

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

ضمنی انتخاب کے نتائج نے سیندور پو نچھ دیا!

ڈاکٹر سلیم خان

ضمنی انتخاب کے کمبھ میلے میں آپریشن سیندور ڈوب گیا۔ پانچ میں سے چار شردھالو ڈوب مرے ۔ ریزرو کٹیگری کے دلتوں کی بدولت ایک کی جان بچی یعنی اگر ملک کا پسماندہ طبقہ بھی زعفرانی جھانسے سے نکل جائے تو کمل مرجھا جائے گا۔پانچ میں دو مسلم امیدواروں کی کامیابی ‘آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا’ کی مصداق ہے ۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے ضمنی انتخاب سے قبل ایک پانچ روزہ غیر ملکی دورہ طے کردیا تاکہ ہر روز ان کا ‘ہنستا ہوا نوروانی چہرہ’ ذرائع ابلاغ میں رونق افروز رہے ۔ سائپرس سے کینیڈا اورکروشیا کے راستے 19 جون کو مودی جی اس توقع سے لوٹے کہ ملک کے رائے دہندگان مانگ میں سیندور بھر کے ان کا ا ستقبال کریں گے اور پانچ میں پانچ نہ سہی تو کم از کم تین میں کامیابی مل ہی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 4 ریاستوں پنجاب، گجرات، مغربی بنگال اور کیرالہ کی 5 اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں ان کی پارٹی گجرات کا ‘وساودر’ بھی ہار گئی ۔ کس نے نہیں سوچا تھا آپریشن سیندور اتنی بری طرح ناکام ہوگا ۔
ضمنی انتخابات کے نتائج میں سب سے بڑی خوشخبری اس عام آدمی پارٹی کے لیے آئی جس پر دہلی میں شکست کے بعد فاتحہ پڑھاجاچکا تھا ۔ پنجاب کے علاوہ گجرات کی کامیابی ‘گھر میں گھس کے مارا’جیسی ہے گوہا جھاڑو نے کمل سے دہلی کی ہار کا ضمنی انتقام لے لیا۔ ملک بھر میں بی جے پی کے لیے یہ نتائج مایوس کن رہے ۔ اس بارحوصلہ اتنا بلند تھا کہ ایک بھی حلیف کو موقع دیئے بغیر اپنے امیدوار کھڑے کیے گئے ۔ گجرات کے کڈی میں اگر دلت رائے دہندگوں نے کمل نہ کھلایا ہوتا تو بی جے پی کا سپڑا صاف ہوجاتا ۔ کڈی سیٹ پر بی جے پی امیدوار راجندر کمار چاؤڈا نے تقریباً ایک لاکھ ووٹ حاصل کرکے کانگریس کے رمیش بھائی چاؤڈا کو تقریباً 40 ہزار ووٹوں سے شکست دے دی۔ یہاں پر عآپ کے جگدیش بھائی چاؤڈا کو 3090 ووٹ پر اکتفاء کرنا پڑا ۔ اس طرح دلتوں کی مہربانی سے ا کمل کھل گیا ۔کڈی چونکہ بی جے پی کا گڑھ ہے اس لیے بی جے پی نے ہیٹ ٹرک کرلی ۔ بی جے پی کااصل امتحان وساودَر میں تھا کیونکہ وہ سابق وزیر اعلیٰ کیشو بھائی پٹیل کی کرم بھومی تھی ۔
1984 میں جنتا پارٹی کا چولا اوڑھ کر زعفرانیوں نے اس پر قبضہ کیا اور 2012 تک جمے رہے ۔ کیشو بھائی کی موت کے بعد 2014 کے ضمنی انتخاب میں کانگریس کے امیدوار ہرشد کمار رابڑیا نے بازی مارلی پھر آگے چل کر 2022کے اندر عام آدمی پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوگیا ۔ بی جے پی نے انتخابی ناکامی کے بعد عآپ کے بھوپیندر بھایانی کو کمل پکڑا دیا ۔ کانگریس کے ہرشد رابڑیا نے مقدمہ کردیا اس لیے ضمنی انتخابات ملتوی ہوتے رہے یہاں تک کہ رابڑیا کو بھی جھانسے میں لے کر بی جے پی نے مقدمہ واپس کروادیا۔ اتنی ساری مشقت کے بعداس امید کے ساتھ کروایا گیا کہ سارے مخالفین کو خرید ے جاچکے ہیں اس لیے کامیابی یقینی ہے مگر عآپ امیدوار گوپال اٹالیا نے تقریباً 76 ہزار ووٹ حاصل کرکے بی جے پی امیدوار کریت پٹیل کو تقریباً 17.

5 ہزار ووٹو سے دھول چٹا دی۔ اس طرح کیشو بھائی پٹیل کی نشست کو جیتنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا۔ اس طرح پچھلے گیارہ سال سے بی جے پی جان توڑ کوشش کے باوجود وہ نا کام ہوگئی۔
عام آدمی پارٹی کو دوسری بڑی کامیابی پنجاب کی لدھیانہ ویسٹ اسمبلی سیٹ پر ملی ۔ وہاں عآپ امیدوار سنجیو اروڑا شروع میں تو کانگریس امیدوار بھارت بھوشن آشو سے پیچھے چل رہے تھے ، لیکن جیسے جیسے ووٹوں کی گنتی آگے بڑھی تو پانسہ پلٹ گیا اور بالآخر کانگریس امیدوار 10637 ووٹوں سے ہار گیا۔ لدھیانہ میں ہندووں کی خاصی بڑی آبادی کے باوجود بی جے پی امیدوار جیون گپتا کو 20323 ووٹ پر اکتفاء کرنا پڑا۔ تیسرے مقام پر بی جے پی اگر سابقہ حلیف شرومنی اکالی دل امیدوار کے ساتھ ہوتی تو اس کی ضمانت بھی ضبط نہیں ہوتی کمل بھی کھل جاتا۔ کیونکہ اس نے آٹھ ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے لیکن اس راستے میں دو مسائل ہیں۔ ایک تو کسان مخالف شبیہ کے سبب اکالی دل اس کے قریب نہیں پھٹکتی اور دوسرے غرور و تکبرکی وجہ سے وہ بی جے پی اپنے حلیفوں کو حقیر فقیر سمجھنے لگی ہے ۔
مغربی بنگال کی کالی گنج سیٹ پر ترنمول کانگریس کا دبدبہ برقرار رہا۔ 2011میں پہلی بار وہاں ٹی ایم سی نے ناصر الدین احمد کے ذریعہ وہاں اپنا جھنڈا گاڑا۔ اس کے بعد 2016 میں کانگریس کے امیدوار حسن الزماں شیخ سے ناصر ہار گئے مگر 2021میں پھر سے ناصرا الدین نے اپنی کھوئی ہوئی میراث پر قبضہ کرلیا۔ ان کی وفات کے بعد ترنمول کانگریس نے ناصر الدین کی بیٹی الیفہ احمد کو ٹکٹ دیا ۔ یہ حکمتِ عملی کامیاب رہی اور اس بار انہوں نے 50 ہزار سے زائد ووٹوں سے فتح کا پرچم لہرایا ۔ بی جے پی امیدوار آشیش گھوش اپنی تمام تر فرقہ وارانہ پروپگنڈا کے باوجود شکست فاش سے دوچار ہوگیا ۔ کانگریس نے الیفہ کے مقابلے ھسن الزمان شیخ کے بیٹے کابل الدین شیخ کو میدان میں اتارا مگر وہ تیسرے مقام پر رہے ۔ اس طرح ممتا بنرجی نے ایک بار پھر اپنا دَم دکھاتے ہوئے کالی گنج سیٹ پر بی جے پی کی دال گلنے نہیں دی اور اسے احساس دلا دیا کہ اگلے سال ہونے والے انتخابات میں جیت حاصل کرنا اس کے لیے آسان نہیں ہوگا ۔ مسلمان تو کم اکم اس کو جیت کا مزہ چکھنے نہیں دیں گے ۔
کانگریس کے لیے اچھی خبرکیرالہ سے آئی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی کی حالت کیرالہ میں اچھی نہیں ہے مگر کانگریس کو بھی نیلامبور سیٹ پر کامیابی درج کرانے کی خاطر طویل عرصہ کرنا پڑا اور بالآخر2016و 2021کی شکست کے بعد پرینکا گاندھی نے وہاں کامیابی کا پرچم لہرایا دیا ۔ اگلے سال کیرالہ کے انتخابات ہونے والے ہیں اس لیے یہ کامیابی کانگریس کے لیے ایک نیک فال ہے ۔ نیلامبور اسمبلی سیٹ پر انور نامی آزاد امیدواراشتراکیوں کی مدد سے دوبار کامیاب ہوا مگر چند ماہ قبل اس نے ایل ڈی ایف پر الزام لگایا کہ وہ آر ایس ایس کی مدد کررہی ہے ۔ مسلم علاقوں میں وہ مافیا بنا رہی ہے اور انہیں بدنام کررہی ۔ یہ کہہ کر انور نے استعفیٰ دیا تو وہاں انتخاب کروانا پٹا ۔ یہ حلقہ ٔ انتخاب پرینکا گاندھی کے وائناڈ میں آتا ہے ۔ انہوں نے خاص دلچسپی لی اور اس سیٹ کو جیتنے کے لیے کانگریس نے کافی محنت کرنی پڑی ۔ اس کے نتیجے میں کانگریس امیدوار آریہ دان شوکت کو 11 ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیابی مل گئی۔
آریہ دان شوکت کو 77737 ووٹ حاصل ہوئے ہیں، جبکہ سی پی آئی (ایم) امیدوار ایم سواراج کو 66660 ووٹ ملے ۔ بی جے پی عیسائی امیدوار کو میدان میں اتار کر ایک جوا کھیلا مگر ایڈووکیٹ موہن جارج محض 8648 ووٹ حاصل کرکے چوتھے مقام پرآئے ۔ اس طرح کیرالہ کے اندر سنگھ پریوار کے بڑھتے رسوخ کا جو ہواّ کھڑا کیا گیا تھا اس کی پول کھل گئی۔ اس حلقۂ انتخاب میں ایل ڈی ایف کی بی جے پی کے ساتھ کھل کر سامنے آگئی۔ جماعت اسلامی ہند کی ویلفیئر پارٹی نے شوکت کی حمایت کی تو اشتراکیوں نے جماعت کو نہ صرف داعش بلکہ پہلگام کے دہشت گردوں سے جوڑ دیا۔ اس طرح اقتدار کی خاطر اشتراکی وہی غلطی کررہے ہیں جو مغربی بنگال میں ہوئی تھی۔ ان لوگوں نے کانگریس کو نقصان پہنچانے کے لیے بی جے پی کی مدد کی اور بالآخر وہ طاقتور ہوگئی اور یہ خود کمزور ہوگئے ۔ اقتدار کے ہاتھ سے نکلنے کا خوف انسان کو اپنی غلطیوں سے سبق بھی نہیں لینے دیتا ۔یہ لوگ بھوک جاتے ہیں کہ کانگریس کو ہرا کر دوبارہ اقتدار میں آجانا ہے مگر بی جے پی اگر حکومت قائم کرلے تو واپسی مشکل ہوجاتی ہے ۔
پہلگام کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والی ایل ڈ ی ایف کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مشکوک معاملہ ہے ۔ عوام کی ایک بڑی تعداد اس کو پلوامہ 2 مانتی ہے جہاں اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز آر ڈی ایکس کا پہنچنا ہنوز معمہ بنا ہوا ہے ؟اس سوال کا جواب سرکار سمیت کسی کے پاس نہیں ہے کہ وہ کہاں سے آیا تھا؟ پہلگام کی بابت بھی سرکار یہ بتانے سے قاصر ہے کہ حملہ آور کہاں سے آئے اور کیسے غائب ہوگئے ؟ انہیں سوالات نے سارے معاملے کو شکوک و شبہات کے دائرے میں ڈال دیا ہے لیکن پلوامہ کے بعد سرجیکل اسٹرئیک نہایت کامیاب رہا۔ بی جے پی نے 2019 کے قومی انتخابات میں اسی کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کی حالانکہ اب اسے بھی لوگ سرجیکل کے بجائے فرضیکل اسٹرائیک کہنے لگے ہیں ۔ آپریشن سیندور کے بعد لاہور ، اسلام آباد اور کراچی میں ترنگا لہرانے والی فرضی جنگ بھی ٹیلی ویژن کے پردے پر لڑی گئی اور اس کے بعد ضمنی انتخابات میں آپریشن سیندور کے اثرات کو جانچا گیا تو اس کا رنگ پھیکا نکلا ۔ پانچ میں سے چار مقامات پر بی جے پی کی شکست معمولی نہیں ہے ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے سیندور کا رنگ خون سے نکل کر آنسووں میں بہہ گیا۔ ان نتائج کے بعد گجرات کے اندر بی جے پی خون کے آنسو رو رہی ہے ۔ پاکستان سے سٹے گجرات میں بھی اگر یہ رنگ نہیں چڑھا تو بہار میں کیا چڑھے گا؟ بی جے پی کو اب بہار اسمبلی انتخاب کے لیے کوئی نیا شوشا چھوڑنا پڑے گا ورنہ اس کی مانگ میں سیندور نہیں بھرے گا اور یشو وھا بین کی طرح وہ سونی کی سونی رہ جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بی جے پی امیدوار ضمنی انتخابات انتخابات میں بی جے پی نے بی جے پی کی کانگریس کے پر بی جے پی پانچ میں ووٹ حاصل ووٹوں سے کے لیے کے بعد اور اس اس لیے سیٹ پر

پڑھیں:

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔

بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔

بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس  ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔

یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں

خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔

ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔

مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری  مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔

اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔

یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔

نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔

دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں  نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔

واپس لاہور آتے ہیں۔

آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ،  گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔

ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔

آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟

مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا