پنجاب حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کا بہانہ بنا کر ملت تشیع کو ہراساں پریشان کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، شیعہ قائدین
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
ملتان میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس ملتان شہر میں 40 سے زائد ایف ائی ارز کا اندراج کیا گیا جس میں چار دیواری کے اندر مجالس کی ایف ائی آر اور سبیلوں کی بابت بھی 2 عدد ایف ائی آر شامل ہیں، حتی کہ امام بارگاہ قصر ابو طالب کے متولی مولانا کوثر عباس پر امام بارگاہ کی حدود میں اندر چار دیواری مجالس عزا کروانے پر 11 عدد ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ اسلام ٹائمز۔ امام بارگاہ قصر ابو طالب اڈا منیر اباد بہاولپور روڈ ملتان پر عمائدین و علما منتظمین ملت جعفریہ ملتان نے ایک پریس کانفرنس کی جس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید اقتدار حسین نقوی مرکزی صدر عزاداری ونگ وحدت مسلمین پاکستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب بالخصوص ملتان ڈویژن میں تمام مکاتب فکر کے افراد باہمی رواداری سے نواسہ رسول جگر گوشہ علی و بتول کی یاد میں محرم الحرام کی تقریبات میں شریک ہو کر خانوادہ رسول کو پرسہ پیش کرتے ہیں، ملتان ڈویژن میں 909 جلوس ہائے عزا روایتی و لائسنسی برامد ہوتے ہیں اور 3182 مجالس عزا عشرہ محرم الحرام کے دوران برپا ہوتی ہیں، گزشتہ کچھ برسوں سے حکام بالا نے نیشنل ایکشن پلان کا بہانہ بنا کر بلاجواز ملت تشیع کو ہراساں پریشان کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، گزشتہ برس ملتان شہر میں 40 سے زائد ایف ائی ارز کا اندراج کیا گیا جس میں چار دیواری کے اندر مجالس کی ایف ائی آر اور سبیلوں کی بابت بھی 2 عدد ایف ائی آر شامل ہیں، حتی کہ امام بارگاہ قصر ابو طالب کے متولی مولانا کوثر عباس پر امام بارگاہ کی حدود میں اندر چار دیواری مجالس عزا کروانے پر 11 عدد ایف آئی آرز درج کی گئیں، اس کے ساتھ ساتھ مولانا کوثر عباس کو شیڈیول فور میں ڈالا گیا اور اس کے علاوہ ضلع ملتان میں ملت تشیع کے 11 افراد کو عزاداری کے فروغ دینے اور اس کے لیے کام کرنے پر ناجائز طور پر شیڈول فورتھ میں ڈالا گیا ہے جبکہ ملتان ڈویژن میں 170 افراد کو شیڈیول فور میں ڈالا گیا ہے۔
رہنمائوں نے کہا کہ آمدہ محرم الحرام کے سلسلہ میں بھی انتظامیہ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے بلاجواز اور غیرقانونی طور پر 83 علما و ذاکرین کی ضلع بندی 62 علما ذاکرین کی زبان بندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جو آئین پاکستان کی سنگین خلاف ورزی ہے، اس کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان کا بہانہ بنا کر قدیمی مجالس اور جلوس ہائے عزا کا اندراج نہ کیا جا رہا ہے، محرم الحرام سے قبل ہی بانیان عشرہ محرم و جلوس عزا کو جبرا متعلقہ تھانہ میں بلا کر ان کی عبادت مجالس جلوس ہائے ادا کو روکنے کے لیے حراساں پریشان کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور ضمانت نامہ داخل کرنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے، انتظامیہ کی جانب سے ایسے اقدامات کی وجہ سے ملت تشیع میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس موقع پر علامہ عون محمد نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان ہر شخص کو اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی دیتا ہے، حکومت پنجاب بالخصوص جنوبی پنجاب کی انتظامیہ کی جانب سے ملت تشیع کو محرم الحرام میں عبادات سے روکنے کے لیے جو ظالمانہ اقدامات نیشنل الیکشن پلان کی آڑ میں کر رہی ہے ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
اس موقع پر سید اقبال مہدی زیدی ایڈووکیٹ نے وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خدارا ملت تشیع کے ساتھ بیوروکریسی کی جانب سے کیے جانے والے ناروا سلوک کو روکا جائے اور فی الفور علما ذاکرین پر عائد کی جانے والی ضلع بندی، زبان بندی کا نوٹس لے کر واپس لیا جائے، قدیمی پروگرامز مجالس و جلوس عزا کا فی الفور اندراج کیا جائے، نیشنل الیکشن پلان کی آڑ میں درج کی گئی ناجائز ایف ائی ار کو خارج کیا جائے، اندر چار دیواری مجالس عزا اور عزاداری کرنے پر ہراساں اور پریشان نہ کیا جائے، بلکہ کتابچہ میں محرم الحرام کے جو پروگرام کی غلطیاں ہیں ان کو فی الفور درست کیا جائے، اس کے علاوہ اگر اپنی روش تبدیل نہ کی تو تمام علما نے اور منتظمین نے خبردار کیا کہ اگر ملت تشیع کو دیوار سے لگانے کی کوشش کرتے ہوئے عزاداری امام حسین میں کوئی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو حالات بگڑنے کی تمام ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی، نیز فورتھ شیڈیول میں دیے گئے افراد کو فی الفور شیڈول سے نکالے جانے کے اقدامات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خطاب کرتے ہوئے محرم الحرام امام بارگاہ ملت تشیع کو چار دیواری ایف ائی آر مجالس عزا فی الفور کیا جائے عدد ایف کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔