ایرانی صدر کی امن کی پیشکش، امریکا سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران کے صدر مسعود پزیشکیان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ تنازعات کو بین الاقوامی فریم ورک کے تحت بات چیت سے حل کرنے کے لیے تیار ہے، ایران کی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق صدر پزیشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔
ایرانی صدر نے سعودی ولی عہد سے بات کرتے ہوئے کہاہمیں امید ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات جلد شروع ہوں گے اور ان کے نتائج مثبت ہوں گے،ایران بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار میں منصفانہ اور معقول معاہدے چاہتا ہے جو ایرانی قوم کے ناقابل تنسیخ حقوق کا تحفظ کریں اور خطے میں استحکام اور ترقی میں مدد دیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہماری کوئی غیر ضروری یا غیر قانونی مطالبات نہیں، ہم صرف اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں اور دوست و برادر ممالک کی حمایت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد بن سلمان نے ایران کے خلاف اسرائیل کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب یا خطے کا کوئی اور ملک ایران کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دے گا، نہ ہی امریکی اڈوں سے ایران پر کوئی کارروائی کی جائے گی،ہم ایران کے جوابی حملے کے حق کو سمجھتے ہیں۔
صدر پزیشکیان نے اماراتی صدر بن زاید النہیان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہم مل کر، غیر ملکی مداخلت کے بغیر، تعاون، امن اور استحکام کے ماحول میں خطے کی تعمیر کر سکتے ہیں،ہم ان تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جو خطے میں استحکام اور اقوام کی بھلائی کے لیے ہوں۔
واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران میں کئی فوجی اور جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے تھے، جن کا الزام تہران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کے تناظر میں لگایا گیا، ایران نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی، بعد ازاں امریکا بھی جنگ میں شامل ہو گیا اور گزشتہ اتوار کو تین ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :