data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران: ایران کے صدر مسعود پزیشکیان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ تنازعات کو بین الاقوامی فریم ورک کے تحت بات چیت سے حل کرنے کے لیے تیار ہے، ایران کی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق صدر پزیشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔

ایرانی صدر نے سعودی ولی عہد سے بات کرتے ہوئے کہاہمیں امید ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات جلد شروع ہوں گے اور ان کے نتائج مثبت ہوں گے،ایران بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار میں منصفانہ اور معقول معاہدے چاہتا ہے جو ایرانی قوم کے ناقابل تنسیخ حقوق کا تحفظ کریں اور خطے میں استحکام اور ترقی میں مدد دیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہماری کوئی غیر ضروری یا غیر قانونی مطالبات نہیں، ہم صرف اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں اور دوست و برادر ممالک کی حمایت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد بن سلمان نے ایران کے خلاف اسرائیل کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب یا خطے کا کوئی اور ملک ایران کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دے گا، نہ ہی امریکی اڈوں سے ایران پر کوئی کارروائی کی جائے گی،ہم ایران کے جوابی حملے کے حق کو سمجھتے ہیں۔

صدر پزیشکیان نے اماراتی صدر بن زاید النہیان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہم مل کر، غیر ملکی مداخلت کے بغیر، تعاون، امن اور استحکام کے ماحول میں خطے کی تعمیر کر سکتے ہیں،ہم ان تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جو خطے میں استحکام اور اقوام کی بھلائی کے لیے ہوں۔

واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران میں کئی فوجی اور جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے تھے، جن کا الزام تہران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کے تناظر میں لگایا گیا، ایران نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی، بعد ازاں امریکا بھی جنگ میں شامل ہو گیا اور گزشتہ اتوار کو تین ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے ایران کے

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی