’’نیتن یاہو کو بچائیں گے‘‘، ٹرمپ صیہونی وزیراعظم کے دفاع میں آگئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دفاع میں سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ پہلاموقع ہے موجودہ اسرائیلی وزیراعظم کا سیاسی مقدمے میں ٹرائل کیا جارہا ہے، یہ سن کر حیران ہوں، سنا ہے نیتن یاہو کو پیر کے روز عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر کرپشن کے الزامات میں گھرے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفاع میں سامنے آگئے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پرکرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جس کے بعد ان کی پیر 30 جون کوعدالت میں پیشی ہوگی۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دفاع میں سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ پہلاموقع ہے موجودہ اسرائیلی وزیراعظم کا سیاسی مقدمے میں ٹرائل کیا جارہا ہے، یہ سن کر حیران ہوں، سنا ہے نیتن یاہو کو پیر کے روز عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو مئی 2020 سے جاری طویل مقدمے کا سامنا کررہے ہیں، اسرائیلی ریاست حال ہی میں تاریخ کے ایک عظیم ترین لمحے سے گزری ہے، نیتن یاہو اور میں ایران جیسے دشمن سے لڑنے کے مشکل ترین لمحے سے گزرے۔
امریکی صدر نے مزید کہا ایک ایسے شخص کے خلاف کارروائی جنہوں نے اتنا کچھ کیا یہ میرے لیے ناقابل تصور ہے، نیتن یاہو پر متعدد غیر منصفانہ الزامات لگائے گئے ہیں تاکہ انہیں نقصان پہنچایا جائے، نیتن یاہو کے ٹرائل کا عمل فوری منسوخ کیا جائے، انہیں معافی دی جائے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ امریکا ہی تھا جس نے اسرائیل کو بچایا اور اب نیتن یاہو کو بچانے جارہا ہے، انصاف کی اس بگڑی ہوئی صورت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے نیتن یاہو کو کے دفاع میں
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔