منشیات کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی اور اجتماعی عزم وقت کی اہم ضرورت ہے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ منشیات کی زنجیر توڑنے کیلئے قومی اور عالمی سطح پر جدوجہد ضروری ہے۔
منشیات کے استعمال اور غیر قانونی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ منشیات کے ناسور کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی اور اجتماعی عزم وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہر سال 26 جون کو منشیات کے استعمال اور غیر قانونی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جو عالمی سطح پر اس لعنت کے خاتمے کے عزم کی علامت ہے، یہ نہ صرف ایک قانونی بلکہ ایک معاشرتی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو منشیات کے مضر اثرات سے محفوظ رکھیں۔
خیبر پختونخوا: ڈسپریٹی الاؤنس دینے کی یقین دہانی پر سرکاری ملازمین کا احتجاج ختم
اس سال عالمی دن کا موضوع ’’زنجیر کو توڑنا: سب کیلئے احتیاط اور بحالی‘‘ مقرر کیا گیا ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ منشیات کے استعمال اور اس کے پھیلاؤ میں معاون نیٹ ورکس کو ہر سطح پر توڑا جائے۔
وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ یہ ایک عالمی چیلنج ہے اور اس کا مؤثر حل صرف بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ممکن ہے، حکومت پاکستان منشیات کے خلاف جاری جنگ سے بخوبی آگاہ ہے اور انسداد منشیات فورس کے ذریعے سخت اقدامات جاری ہیں تاہم حکومتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عوامی، معاشرتی اور انفرادی سطح پر بھی بھرپور تعاون ضروری ہے تاکہ اجتماعی جدوجہد کے ذریعے اس لعنت کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
زلزلے کے جھٹکے،خوف وہراس پھیل گیا
انہوں نے نوجوان نسل کو منشیات کے استعمال سے دور رکھنے کیلئے آگاہی مہمات کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نوجوانوں کو منشیات کے خطرات اور اس کے پیچھے موجود مجرمانہ نیٹ ورکس کے بارے میں آگاہ کرنا از حد ضروری ہے، تاکہ وہ اس جال سے بچ سکیں۔
وزیراعظم نے منشیات کے متاثرین کی علاج اور بحالی کیلئے سرکاری اداروں، سول سوسائٹی و متاثرہ خاندانوں کے مابین مربوط حکمت عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کی آسان رسائی انسانی المیوں کا سبب بن رہی ہے، جسے روکنے کیلئے فوری اور جامع اقدامات ضروری ہیں۔
موسمی خرابی کے باعث لاہور فلائٹ آپریشن شدید متاثر
شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ تمام ادارے، تنظیمیں اور شہری منشیات کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا کریں گے تاکہ ایک محفوظ، صحت مند اور باوقار معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: منشیات کے استعمال کو منشیات کے کہ منشیات کے خلاف
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب