محرم الحرام کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو نے پیشگوئی کردی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
سپارکو کے مطابق محرم الحرام کا چاند 26جون بروز جمعرات کو نظر آنے کا امکان ہے اور یکم محرم 1447 ہجری 27 جون کو متوقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے قومی خلائی ادارے سپارکو نے محرم الحرام 1447 ہجری کے چاند سے متعلق پیشگوئی کر دی۔ سپارکو کے مطابق محرم الحرام کا چاند 26جون بروز جمعرات کو نظر آنے کا امکان ہے اور یکم محرم 1447 ہجری 27 جون کو متوقع ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ نئے چاند کی پیدائش 25 جون کو سہ پہر 3:32 بجے ہوگی اور 26 جون جمعرات کو غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 28 گھنٹے، 15 منٹ ہوگی جب کہ اور مطلع صاف ہونے کے باعث نیا چاندآسانی سے دیکھا جاسکے گا۔ ترجمان کے مطابق ملک کے ساحلی علاقوں میں غروب آفتاب اور چاند کے غروب ہونے کے درمیان وقفہ 75 منٹ ہوگا جو چاند کی رویت کے لیے بہترین حالات فراہم کرے گا۔ تاہم اگر چاند 26 جون کو نظر آجاتا ہے تو 9 محرم الحرام 5 جولائی بروز ہفتہ اور یوم عاشور 10 محرم 6 جولائی بروز اتوار کو ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محرم الحرام جون کو
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔