وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے محرم الحرام میں سیکورٹی اور دیگر انتظامات کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام اخوت، بھائی چارگی اور قربانی کا درس دیتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے محرم الحرام میں سیکورٹی اور دیگر انتظامات کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام اخوت، بھائی چارگی اور قربانی کا درس دیتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں۔ صوبائی حکومت کی کوششوں کی وجہ سے گلگت بلتستان میں مثالی امن اور بھائی چارگی کا ماحول قائم ہوا ہے۔ محرم الحرام کے دوران طے شدہ ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف بلاتفریق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے آئی جی پی گلگت بلتستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ تمام داخلی و خارجی شاہراہوں میں چیکنگ کے نظام کو موثر بنائیں۔ محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کی فل پروف سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ تمام جلوسوں کی نگرانی ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کی جائے۔ ضلعی انتظایمہ اور پولیس علمائے کرام، عمائدین اور سول سوسائٹی سے مل کر بھائی چارگی کے فضاء کو برقرار رکھنے کیلئے حکمت عملی وضع کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان محرم الحرام بھائی چارگی

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار