ملک بھر میں بجلی کے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب مکمل کرکے جلد رپورٹ پیش کی جائے؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کے شعبے میں نقصان کا باعث بننے والی جینکوز کی نیلامی اور ملک بھر میں اسمارٹ الیکٹرک میٹر کی تنصیب جلد مکمل کرنے کی ہدایت دے دی، کہنا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب مکمل کرکے جلد رپورٹ پیش کی جائے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی شعبے کی جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا ، جس میں بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور اس سے ہونے والے فائدے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
لاہور میں 262 ٹریفک حادثات ؛340 افراد زخمی
وزیراعظم نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے شعبے کی اصلاحات سے عوام کو ریلیف اور صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ شہباز شریف نے ہدایت کی کہ بجلی شعبے میں نقصان کرنے والی جینکوز کی نیلامی کے دوسرے اور تیسرے مرحلوں کو بھی جلد مکمل کیا جائے اور نیلامی کے عمل کو دیگر نجکاری کے پروگرامز کی طرح میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ملک بھر میں بجلی کے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب مکمل کرکے جلد رپورٹ پیش کی جائے۔
یکم محرم الحرام کو عام تعطیل کا اعلان
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے، ملک بھر میں الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے عمل کو تیز کیا جائے، بجلی کی ترسیل اور ٹرانسمیشن سسٹم میں بہتری کیلئے مجوزہ منصوبوں پر کام جلد شروع کیا جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے ٹیوب ویلز کی سولرآئزیشن کا عمل مکمل ہو چکا جس سے بلوچستان کے زرعی شعبے کی پیداور میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے حالیہ موسم سرما میں بجلی صارفین کو نرخوں میں سہولت فراہم کی، قابل تجدید توانائی کے ماحول دوست اور کم لاگت منصوبوں کو جلد مکمل کرکے عوام کو مزید سہولت دینے کیلئے اقدامات اولین ترجیح ہیں۔
برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کی زرداری ہاؤس آمد، بلاول اور آصفہ بھٹو سے ملاقات
اجلاس کو بجلی شعبے کی پیدوار، ترسیل اور تقسیم کے حوالے سے جاری اصلاحات اور منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر فرسودہ اور نقصان میں چلنے والے جینکوز کی نیلامی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا جس سے قومی خزانے کو 9.
شرکا کو بتایا گیا کہ شفافیت کے عنصر کو یقینی بنانے کیلئے نیلامی کی کاروائی براہ راست نشر کی جاتی ہے، 36 آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کے نرخوں کے حوالے سے کامیاب مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میں مجموعی طور ملکی خزانے کو 3.69 ٹریلین روپے کی بچت ہوگی۔
وائٹ ہاؤس نے فردو پر اسرائیلی اٹامک انرجی کمیشن کی رپورٹ شئیر کر دی
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ملکی صنعتوں کو ٹرانسمیشن لائن پر لا کر انہیں بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے جس سے صنعتی پیدوار، برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا، بجلی ٹرانسمیشن کمپنی NTDCL کو تحلیل کرکے انرجی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی اور نیشنل گرڈ کمپنی تشکیل دی گئی ہیں اور انکو انکی ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کیلئے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کا عمل بھی تیزی جاری ہے، الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کی درخواستوں کو وصول کرنے کیلئے آن لائن پورٹل فعال ہے جس کے ذریعے 120 درخواستیں وصول کی جا چکیں جس میں سے 48 درخواستوں کو عبوری رجسٹریشن کی دستاویزات تفویض کی جاچکیں، اسی طرح پہلے سے موجود چارجنگ اسٹیشنز کی ریگیولرائیزیشن کا عمل بھی مکمل ہو چکا.
شہرِ قائد میں مسلسل زلزلوں کی وجوہات، زلزلہ پیما مرکز نے تفصیلات جاری کر دیں
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی شعبے کی بہتری کیلئے پاور پلاننگ اور مانیٹرنگ کمپنی PPMC کا قیام عمل میں لایا جاچکا. ملک کی بیشتر تقسیم کار کمپنیوں کے انتظامی بقرڈز کی تشکیل نو کی جاچکی جو کہ اب مکمل طور پر فعال ہیں.
وزیرِ اعظم کو مٹیاری، مورو، رحیم یار خان، غازی بروتھہ، فیصل آباد ٹرانسمیشن لائنز کے حوالے سے بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کی فنانسنگ میں مقامی و بین الاقوامی اداروں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
اجلاس کو آئندہ چھ برس میں 2.4 ٹریلین کے گرشی قرضے کے مکمل خاتمے کیلئے بھی لائحہ سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی کی بچت کیلئے انرجی ایفیشنٹ پنکھوں کے فروغ کے حوالے سے بینکوں سے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے تاکہ متوسط طبقے کے صارفین بجلی بچا کر بلوں میں کمی سے مستفید ہو سکیں۔
شرکا کو بریفنگ دی گئی کہ بجلی کی بچت کیلئے انرجی ایفیشنٹ عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے بھی روڈ میپ تیار ہے اور صوبائی حکومتوں سے بھی اس پر عملدرآمد پر مشاورت مکمل ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء سردار اویس خان لغاری، احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، نیشنل کوارڈینیٹر پاور ٹاسک فورس لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کو بتایا گیا کہ چارجنگ اسٹیشنز کے حوالے سے میں بجلی کے ملک بھر میں شہباز شریف بریفنگ دی بجلی شعبے مکمل کرکے کی تنصیب اجلاس کو کیا جائے شعبے کی بجلی کی کہ بجلی کہ ملک
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔