ملتان، ایم ڈبلیو ایم اور آئی ایس او کے زیراہتمام جشن فتح مبین و یوم تشکر کا اہتمام
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
جشن میں اُمیدوار ایم پی اے شاہد رضا صدیقی، انچارج امور عزاداری شیعہ میانی احمد عباس صدیقی، رہنما امور عزاداری محمد رضا جعفری، ضلعی رہنما ایم ڈبلیو ایم ملتان عمارحیدر، نیر عباس شمسی، صوبائی ترجمان ثقلین نقوی، صوبائی سیکرٹری روابط سید ندیم کاظمی، سجادحیدر، وقار حیدر، ذاکر سید ذیشان شمسی، سید مہدی، عاشق حسین سمیت بچوں اور مومنین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع ملتان اور آئی ایس او ضلع ملتان کی جانب سے علمدار چوک سورج میانی میں جشن فتح مبین و یوم تشکر کا انعقاد کیا گیا۔ جشن سے مرکزی صدر ایمپلائز ونگ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سلیم عباس صدیقی، صوبائی آرگنائزر مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب علامہ قاضی نادر حسین علوی، ضلعی صدر ایم ڈبلیو ایم ملتان فخر نسیم، صوبائی صدر آئی ایس او احتشام اظہر، ضلعی صدر آئی ایس او علی مصدق نے خطاب کیا۔ جشن میں اُمیدوار ایم پی اے شاہد رضا صدیقی، انچارج امور عزاداری شیعہ میانی احمد عباس صدیقی، رہنما امور عزاداری محمد رضا جعفری، ضلعی رہنما ایم ڈبلیو ایم ملتان عمارحیدر، نیر عباس شمسی، صوبائی ترجمان ثقلین نقوی، صوبائی سیکرٹری روابط سید ندیم کاظمی، سجادحیدر، وقار حیدر، ذاکر سید ذیشان شمسی، سید مہدی، عاشق حسین سمیت بچوں اور مومنین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ آخر میں کیک کاٹا گیا، مٹھائی تقسیم کی گئی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کروائی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔