پاکستان آرمی نے ضلع نگر، گلگت بلتستان کے سنگلاخ پہاڑی علاقوں، بالخصوص راکاپوشی کے قریب، ایک انتہائی پرخطر اور پیچیدہ ریسکیو آپریشن کامیابی سے مکمل کر کے پیشہ ورانہ مہارت اور فرض سے بڑھ کر خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔

معروف سماجی کارکن یاور عباس اور ان کے ساتھی 24 جون 2025 کو ایک المناک حادثے کا شکار ہوگئے۔ یہ حادثہ ایک ایسے دور دراز اور دشوار گزار علاقے میں پیش آیا جہاں سول ریسکیو ٹیموں کی رسائی ممکن نہ تھی۔

متاثرہ خاندان کی درخواست پر پاکستان آرمی نے فوری طور پر جائے حادثہ کی جانب ہیلی کاپٹرز روانہ کیے۔ پاک فوج کے بہادر پائلٹس نے شدید موسمی اور پرواز کی سخت شرائط کے باوجود کئی بار پرواز کی کوششیں کیں۔

اس ریسکیو آپریشن کے نتیجے میں یاور عباس کا جسدِ خاکی باعزت طور پر بازیاب کر لیا گیا جبکہ ان کے زخمی ساتھی کو بروقت طبی امداد دے کر زندگی بچا لی گئی۔

یاد رہے کہ یاور عباس، جو فورتھ شیڈول میں شامل اور پاکستان آرمی و ریاستی اداروں کے مسلسل ناقد رہے ہیں، ان کے جسدِ خاکی کی بازیابی کے لیے بھی پاکستان آرمی نے کسی قسم کی جانبداری یا تحفظات کا مظاہرہ کیے بغیر فوری اقدام کیا۔

سوگوار خاندان اور مقامی برادری نے پاک فوج کی اس انسانی جذبے سے بھرپور کارروائی پر دلی شکریہ ادا کیا۔

یہ مشن ایک مرتبہ پھر اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان آرمی نہ صرف ریاست کے تحفظ کی ضامن ہے بلکہ ہر شہری کی بلا تفریق مذہب، نسل، طبقہ یا نظریاتی رجحانات مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان آرمی

پڑھیں:

کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت