پختونخوا میں طوفانی بارشیں، ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم آج گرم، مرطوب اور جزوی طور پر ابر آلود رہے گا، جبکہ میدانی علاقوں میں شدید گرمی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں طوفانی بارشوں کے امکان کے پیش نظر ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم آج گرم، مرطوب اور جزوی طور پر ابر آلود رہے گا، جبکہ میدانی علاقوں میں شدید گرمی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ دریں اثنا صوبے کے بالائی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور بارش کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ موسمیاتی رپورٹ کے مطابق چترال، دیر بالا اور دیر زیریں، سوات، بونیر، مالاکنڈ، باجوڑ، بٹگرام، شانگلہ، کوہستان، تورغر، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح ہری پور، کرم، مہمند، خیبر، اورکزئی، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی اور کوہاٹ کے اضلاع میں بھی بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جنوبی اضلاع جیسے ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہواؤں کا امکان موجود ہے، جبکہ بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔ ممکنہ اثرات کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مردان، مانسہرہ، کوہستان، دیر، سوات اور شانگلہ کے علاقوں میں موسلا دھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے۔ علاوہ ازیں پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے باعث سڑکوں کی بندش بھی متوقع ہے۔ گزشتہ روز کی صورتحال کے مطابق سیدو شریف سوات میں 24 ملی میٹر، بالاکوٹ میں 15 ملی میٹر، کاکول میں 5 ملی میٹر، مالم جبہ میں 9 ملی میٹر، کالم میں 5 ملی میٹر اور تیمرگرہ میں 3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات نے شہریوں اور متعلقہ اداروں کو ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات علاقوں میں کے مطابق ملی میٹر کی گئی
پڑھیں:
انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے
والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔
ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم
عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا
رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔
President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.
The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI
— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026
صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔
محکمۂ خزانہ کی کارروائیاںوائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر
ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔
اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع
حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔
مسئلے کا حجمامریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم
امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔
حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی
اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ
آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔
آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا
اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس