محرم الحرام میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہوگی یا نہیں ؟ بڑی خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
وزیرداخلہ محسن نقوی کا محرم الحرام کے دوران انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش کے حوالے سے اہم بیان آگیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت محرم الحرام سیکیورٹی پلان پر اجلاس ہوا، جس میں تمام صوبوں ، آزاد کشمیر، جی بی اور اسلام آباد میں محرم کے سیکیورٹی پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیزموادکی روک تھام کیلئے پیمرا کو سفارشات ارسال کی جائیں گی۔
اجلاس میں محرم الحرام کے دوران امن وامان یقینی بنانے کیلئےتمام ضروری انتظامی اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا انٹرنیٹ،موبائل سروس کی بندش کا فیصلہ سیکیورٹی کے پیش نظر صوبوں کی مشاورت ہوگا۔وزیر داخلہ نے ہدایت کی انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش کا فیصلہ زمینی حقائق پر کیا جائے ساتھ ہی تمام ضروری اقدامات اور فیصلے باہمی مشاورت سے کئے جائیں گے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی اشتعال انگیزی اور شرپسندی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، محرم الحرام کے دوران ضابطہ اخلاق کی سختی سے پابندی کرائی جائے گی ، جلوسوں و مجالس کی جدید ٹیکنالوجی کےذریعے نگرانی یقینی بنائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: محرم الحرام کا فیصلہ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔